یکساں سیول کوڈ پر لوک سبھا الیکشن تک قانون سازی نہیں ہوگی!

,

   

Ferty9 Clinic

مودی حکومت عوامی ناراضگی سے پریشان، ہندو تنظیموں اور قبائل کی مخالفت، ریاستوںکی سطح پر قانون سازی کی تیاری
حیدرآباد ۔4۔ اگست (سیاست نیوز) ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ سے متعلق مرکزی حکومت اور بی جے پی کی مہم کے خلاف عوامی ناراضگی نے بی جے پی کو 2024 عام انتخابات سے قبل یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر فیصلہ سے روک دیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کارکنوں سے خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی وکالت کی تھی جس کے بعد گودی میڈیا اور بی جے پی قائدین نے اس کے حق میں باقاعدہ مہم شروع کردی ۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں یکساں سیول کوڈ بل پیش کیا جائے گا لیکن مختلف طبقات کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے مرکز نے لا کمیشن کو اس معاملہ میں شامل کرکے اپنے امیج کو بچانے کی کوشش کی ۔ لا کمیشن نے یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر عوام کی رائے حاصل کی اور جولائی کے اواخر میں یہ مہلت ختم ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 70 لاکھ افراد نے یکساں سیول کوڈ پر اپنی رائے پیش کی ہے۔ لا کمیشن کو لاکھوں موصولہ تجاویز اور رائے کو علحدہ کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے ، لہذا مانسون سیشن میں بل کی پیشکشی کے امکانات ختم ہوگئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی نے عوام بالخصوص مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ردعمل جاننے کیلئے یکساں سیول کوڈ کا شوشہ چھوڑا تھا۔ بی جے پی کو توقع نہیں تھی کہ کئی مذہبی اقلیتوں اور بالخصوص قبائل کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ہندو تنظیموں نے یکساں سیول کوڈ کو ہندو قوانین اور روایات کے خلاف قرار دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی نے آئندہ عام انتخابات تک یکساں سیول کوڈ معاملہ کو ٹالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ لوک سبھا انتخابات تک پارلیمنٹ میں یکساں سیول کوڈ بل کی پیشکشی موہوم دکھائی دے رہی ہے ۔ بی جے پی حکومت پارلیمنٹ میں بل کی عدم پیشکشی کو مختلف طبقات کی مخالفت کے بجائے لا کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات کے انتظار کے طور پر پیش کرے گی۔ مودی حکومت بل کی پیشکشی میں ناکامی کو چھپانے کیلئے کئی بہانے تلاش کرسکتی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق عام انتخابات میں مختلف طبقات کی ناراضگی سے بچنے کیلئے اس مسئلہ کو آئندہ میعاد کیلئے ٹالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ 2024 الیکشن میں اگر بی جے پی دوبارہ برسر اقتدار آتی ہے تو ایسی صورت میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ میں پیشرفت کی جائے گی۔ بی جے پی کے منشور میں شامل تین امور میں سے دو کی تکمیل ہوچکی ہے۔ رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کے خصوصی موقف کی برخواستگی جیسے امور کی تکمیل ہوچکی ہے۔ ایجنڈہ میں یکساں سیول کوڈ واحد مسئلہ ہے جس پر عمل آوری باقی ہے۔ سابق میں اٹل بہاری واجپائی حکومت نے ایجنڈہ کے امور پر عمل آوری کی کوشش نہیں کی۔ نریندر مودی حکومت نے 2 امور کی تکمیل کرلی ہے اور یکساں سیول کوڈ معاملہ میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر طبقات کی شدید مخالفت کے سبب بی جے پی کو قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور ہونا پڑا۔ بھوپال میں 28 جون کو وزیراعظم نریندر مودی کے اعلان کے موقع سرکاری اور سیاسی سطح پر یکساں سیول کوڈ کے حق میں سرگرمیاں تیز ہوچکی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی نے عام انتخابات تک یکساں سیول کوڈ مسئلہ کو اہم انتخابی موضوع کے طور پر شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن قانون سازی میں کوئی عجلت نہیں کی جائے گی۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ اس کی زیر اقتدار ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ کے حق میں قانون سازی ہو تاکہ عوام کو ذہنی طور پر تیارکیاجاسکے۔ اتراکھنڈ ، مدھیہ پردیش اور گجرات میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی مساعی شروع ہوچکی ہے جبکہ اترپردیش اور آسام اسی مسئلہ پر قطار میں ہیں۔ ریاستوں کی سطح پر نفاذ کے ذریعہ بی جے پی عوامی ردعمل جاننا چاہتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آر ایس ایس کی قیادت نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یکساں سیول کوڈ معاملہ میں عجلت سے کام نہ لیں کیونکہ حکومت کی کارکردگی سے عوام پہلے ہی ناراض ہیں۔ کئی ہندو تنظیموں اور دستور کے ماہرین نے یکساں سیول کوڈ کے خلاف اپنی رائے پیش کی ہے۔ لا کمیشن نے 14 جون کو عوام سے رائے حاصل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا اور 28 جولائی تک رائے حاصل کی گئی۔ کمیشن کو داخل کی گئیں 70 لاکھ نمائندگیوں کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ ویسے بھی 2018 ء میں اس وقت کے لا کمیشن نے یکساں سیول کوڈ کے خلاف اپنی رائے حکومت کو پیش کردی تھی۔