یہاں عہدے بکتے ہیں؟

   

Ferty9 Clinic

ہندوستان میں کرپشن اپنی حدوںکو چھو رہا ہے ۔ ہر معاملے میںکرپشن عام بات ہوگئی ہے ۔ یہاں سرکاری عہدیدار بغیر رشوت کام نہیں کرتے ۔ وزیروںکے پاس کروڑہا روپئے کی دولت پڑی ہوتی ہے ۔ ان کے معاونین اور ساتھیوں کے گھروں سے کروڑہا روپئے برآمد ہوتے ہیں۔ یہ کہا جاتا تھا کہ دستوری اور قانونی عہدوں پر فائز افراد رشوت لے کر کسی کا بھی کوئی بھی کام کرواسکتے ہیں۔ تاہم اب ایک نیا مسئلہ سامنے آیا ہے جس کو اسکام بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ سی بی آئی نے راجیہ سبھا کی رکنیت اور گورنر کا عہدہ 100 کروڑ روپئے کی بھاری رقم کے عوض دلانے کا دعوی کرنے والے ملزمین کو حراست میںلے لیا ہے ۔ سی بی آئی کی جانب سے اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کردی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ لوگ راجیہ سبھا کی رکنیت یا گورنر کا عہدہ حاصل کرنے کے خواہاں افراد سے کروڑہا روپئے وصول کرتے ہوئے انہیں دھوکہ دیا کرتے تھے ۔ یہ ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے کیونکہ راجیہ سبھا کی رکنیت قانون سازی کا عہدہ ہے جبکہ گورنر ریاست کے سربراہ ہوتے ہیں اور یہ ایک دستوری عہدہ ہے ۔ اس قدر اہمیت کے حامل عہدوں پر بھی اگر کرپٹ اور بدعنوان افراد فائز ہوجائیں توپھر ملک میں سارا نظام ہی درہم برہم ہوکر رہ جائیگا ۔ ویسے بھی سرکاری عہدیداروں ‘ درمیانی آدمیوں اور عوامی نمائندوں کے کرپشن کی وجہ سے حالات پہلے ہی سے انتہائی ابتر ہیں۔ عام آدمی کو کسی بھی کام کی انجام دہی کیلئے جو رشوت ادا کرنے پڑتی ہے وہ سرکاری خرچ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔ کرپشن اور بدعنوانیوںکو ختم کرنے کی جدوجہد میں اس طرح کے معاملات سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں اور یہ ایک سنگین نوعیت کا معاملہ ہے جس کی تہہ تک سی بی آئی کو پہونچتے ہوئے اس کے تمام تانے بانوںکو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔ جو ملزمین اس کیس میں گرفتار کئے گئے ہیں ان کے تعلقات کا بھی پتہ چلایا جانا چاہئے ۔ اس معاملے کی ساری حقیقت کو ملک کے عوام کے سامنے لائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ اگر کوئی با اثر چہرے اس کے پس پردہ سرگرم ہیں تو انہیں بے نقاب کیا جاسکے ۔
جہاں یہ بات تشویش کی ہے کہ اس طرح کے عہدوں کیلئے بھی کرپشن کا عروج ہے تو اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کروڑہا روپئے ادا کرتے ہوئے قانونی اوردستوری عہدوں پرفائز ہونگے وہ پھر اپنی سرمایہ کاری کا نفع حاصل کرنے کیلئے کس حد تک کرپشن کا راستہ اختیار کریں گے ۔ جو لوگ اتنی بھاری دولت کے مالک ہوتے ہیں ان کے عزائم کس طرح کے ہوسکتے ہیں اس کو سمجھنے کیلئے ضرورت ہے ۔ یہ لوگ بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے اس سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کرنے اور سرکاری و قانونی عہدے حاصل کرتے ہوئے ان کا بیجا استعمال کرنے سے قطعی گریز نہیں کرتے ۔ انتخابات میں دولت کے استعمال کو روکنے کیلئے ملک میں جو قوانین بنائے گئے ہیں وہ ناکافی قرار دئے جاتے ہیں جبکہ عہدوں کے حصول کیلئے پس پردہ جو دولت کا ریل پل اور چلن عام ہوگیا ہے وہ تو کسی کی نظروں میں ہی نہیں ہے ۔ یہ کرپشن کی انتہائی حد کہی جاسکتی ہے۔ خاص طور پر گورنر کا عہدہ پانے کی خواہش اور دلانے کا جھانسہ دے کر جو دولت استعمال کی جاتی ہے وہ خود بھی غیر قانونی ہی ہوسکتی ہے ۔ اتنی خطیر رقومات کہاں سے کمائی گئی ہیں اس کا بھی جائزہ لینے اور اس کے ذرائع کا پتہ چلانے کی بھی ضرورت ہے ۔ یہ ہمارے ملک کے نظام سے ایک بھیانک مذاق ہے اور ایسی ناپاک کوششوں کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔
راجیہ سبھا کی رکنیت ہو یا پھر گورنر کا عہدہ ہو دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں لیکن جہاں تک گورنر کی بات ہے تو وہ ریاست کے سربراہ ہوتے ہیں اور یہ انتہائی جلیل القدر اور دستوری عہدہ ہوتا ہے ۔ اگر لوگ اس طرح کے اہم ترین عہدوںکو بھی دولت کے بل پر حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگیں تو سارے نظام ہی مضحکہ خیز بن کر رہ جائے گا ۔سی بی آئی نے اس معاملے کا پردہ فاش کرتے ہوئے کچھ ملزمین کو حراست میں لیا ہے ۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اسکینڈل کی جڑوں تک پہونچا جائے اور جوعناصر اس کے پس پردہ کارفرما ہیں ان کو بے نقاب کرتے ہوئے اس لعنت کا خاتمہ کیا جائے ۔