یہ آرائش کا منفرد انداز ہے

   

مختصر رقبے کے مکانوں میں ضرورت کے فرنیچر کو کثیر المقاصد انداز سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔شاہانہ طرزِ زندگی وافر مقدار میں مالی وسائل کے علاوہ طویل رقبہ بھی چاہتی ہے۔سردیوں میں تو کمرے بند رکھے جاتے ہیں، اس لئے مختصر سے گوشے کتنے ہی سامان سے لدے رہیں برے نہیں لگتے۔ ایک مخصوص سی حرارت کا احساس دامنگیر رہتا ہے ۔مگر جوں ہی موسم بدلتا ہے جی چاہتا ہے کہ کمروں میں کشادگی ہو، سامان کم ہو، فرش سادہ ہوں یا دبیز قالین اُٹھا لئے جائیں، پردوں کے کپڑے ہلکے رنگوں کے ہوں، بہار اور گرمی کے دنوں میں گہرے رنگ بھی ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ایسے میں بھی اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا نہیں بھولنا چاہئے۔ البتہ اگر کچھ سامان اسٹور میں منتقل کیا جاسکتا ہو تو کر لیں تاکہ دیکھنے والوں کو ماحول میں سادگی اور کشادگی کا تاثر ملے۔
ہر کمرہ ورسٹائل ہو سکتا ہے، مگر کس طرح؟ : آپ کا اسٹائلش ڈائننگ روم، ہوم آفس بھی ہو سکتا ہے۔کھانے کے وقت کھانا کھایا جائے اور کام کے وقت اسی جگہ ٹیبل لیمپ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا آفس کی اسٹیشنری اور فائلیں رکھ کرکام مکمل کیا جا سکتا ہے۔آپ کو اس میز سے صرف کھانے کے برتن (اگر رکھے ہوں) یا پھلوں کی طشتری اٹھا لینی چاہئے اور یہ اس لئے ضروری ہے تاکہ کام کرتے وقت آپ کا دھیان نہ بٹے۔ آپ کی ڈریسنگ ٹیبل وقتی طور پر رائٹنگ ٹیبل بھی بن سکتی ہے بشرطیکہ آپ نے اپنی کاسمیٹکس یہاں پھیلا نہ رکھی ہوں۔چھوٹے بچوں والے گھروں میں کاسمیٹکس کبھی بھی میز پر سجائی نہیں جاتیں بلکہ انہیں درازوں میں رکھا جاتا ہے اور بوقت ضرورت نکالا اور پھر محفوظ کر دیا جاتا ہے۔آپ چاہیں تو یہاں ایک جانب لیمپ روشن کر کے کتب بینی کر سکتے ہیں اور جب آپ کی بیگم کو میک اپ کرنا مقصود ہو، وہ اس جگہ کو اپنے استعمال میں لے آئیں۔ مختصر مکانیت والے گھروں میں اسی طرح فرنیچر کو ایک سے زائد مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آرائشی آئینوں سے دیں کمروں کو وسعت : اگر آپ دیواروں پر آرائشی آئینوں کو نصب کروا کر ان کے قریب کوئی پلانٹ رکھواتی ہیں تو یہ ماحول دوست تدبیر ہے۔صرف اسی طرح نگاہوں کو جدت، تازگی اور وسعت کا احساس ہوتا ہے۔آئینہ جس قدر صاف اور شفاف ہو گا اتنا ہی کمرہ نکھرا نکھرا سا لگے گا۔
صاحب کی ڈریسنگ ٹیبل سیاہ یا براؤن کلر کی ہو، مگر کیوں؟ : اس لئے یہ دونوں رنگ خواتین پہننا اوڑھنا پسند تو کر لیتی ہیں لیکن یہ خالصتاً مردوں کے رنگ ہیں۔اگر آپ کے واش روم کے قریب یا کسی جگہ ان رنگوں سے آراستہ کوئی قدِ آدم آئینہ یا ڈریسنگ ٹیبل ہے تو وہیں ایک جانب کولون، لیدر کا بریف کیس، گھڑیاں اور دوسری استعمال کی اشیاء اسٹور کر لیجئے۔
سمرفن : آرائش میں نیلے اور سبز پھول دار کشنز آپ کے کمرے کو فریش لْک دیں گے۔چھوٹے پھول دار کاٹن کے کپڑے کے کشنز قیمتاً مہنگے بھی نہیں ہوں گے اور آپ خواہ انہیں لاؤنج میں رکھیں یا کافی ٹیبل کے آس پاس کسی نشست پر رکھ دیں یہ نگاہوں کو بہت بھلے لگتے ہیں۔موسم گرما میں پرائمری رنگوں کا انتخاب موزوں رہے گا۔آپ کی دیواری تصاویر پرنٹس وغیرہ میں بھی نیلے رنگوں کی موجودگی تر و تازگی اور ٹھنڈک کا تاثر دیتی ہے۔ آپ کے پاس گلاس ٹوپڈ میزیں ہوں تو چھوٹے کمروں کو کشادہ کرنے کیلئے بے حد عمدہ انتخاب ہو سکتی ہیں، یہ وزن میں بھی ہلکی ہوتی ہیں اور ہوا دار بھی۔تجارتی عمارتوں اور گھروں میں شیشے کا استعمال بلا ضرورت نہ ہو تو اچھا ہے کیونکہ جب سورج ان گھروں کی طرف ہوتا ہے تو ان میں بجلی کا استعمال بڑھ جاتا ہے ۔ اب دنیا بھر میں تعمیرات کے ضمن میں اس اصول کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے کہ جنوب کی سمت شیشے کا استعمال کم ہو۔ گھروں کی تزئین و آرائش میں ہوا کے معیار کو ترجیح دینی کیوں ضروری ہے؟تاکہ ہوا میں ایسے مرکبات کم سے کم ہوں جو جلدی آگ پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ہوا خالص اور انسانی صحت کیلئے عمدہ ہو، اس میں بیکٹیریاز کم سے کم ہوں اور گھروں میں ہوا داخل اور خارج ہونے کا قدرتی نظام ہو۔جس گھر میں نقصان دہ گیسز خارج نہیں ہوتیں مثلاً میٹریل فارمل ڈی ہائیڈ نہیں ہوتا وہاں اشیاء کو پھپھوند لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ ماحول میں بیکٹیریاز، وائرسز، ڈسٹ مائٹس اور دیگر جراثیم کی موجودگی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔گھر کے اندر ہوا میں نمی کی شرح کم سے کم رکھنے کیلئے وینٹی لیشن (ہوائی گزر گاہ) پر توجہ دی جانی چاہئے۔تازہ ہوا کی آمد و رفت سے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے باورچی خانوں اور واش رومز کی صفائی ستھرائی کے عمل اور دیگر سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گندی ہوا بخارات وغیرہ باہر نکل جاتے ہیں اور گھر کے اندر کا درجہ حرارت معیاری رہتا ہے۔ اگر موسم سرما کے رخصت ہوتے ہی دبیز قالینوں کو کمروں سے ہٹا لیا جائے اور فرش کی سطح چمکدار اور صاف ستھری ہو اور قدرتی روشنی کی زیادہ سے زیادہ آمد کو یقینی بنایا جائے تو ڈیزائن، تکنیک اور بجلی کی مدد سے پیدا ہونے والی بجلی کم استعمال ہو گی۔ماحول دوست تزئین و آرائش پر اگر دو فیصد زیادہ اخراجات آ بھی جائیں تو وہ عام گھر کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ فوائد دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کھلتے نہیں بلکہ بچت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔