وزیر اعظم نریندر مودی ان دنوں بیرونی دورہ پر ہیں۔ انہوں نے ازبیکستان کے شہر سمرقند میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی ۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے پوٹن سے کہا کہ آج کا دور جنگ کا دور نہیں ہے ۔ یہ ریمارکس اس پس منظر میں کیا گیا ہے کہ روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے اور دونوںملکوں کے مابین گذشتہ نو مہینوں سے جنگ جاری ہے ۔ ابتدائی چند ماہ میںروس کی جانب سے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے ایک طرح سے تباہی مچائی گئی تھی ۔ تشہیری حربہ اختیار کیا گیا تھا ۔ جنگ میں بالادستی کے دعوے کئے جا رہے تھے ۔ تاہم اس دوران یوکرین نے اپنے طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی تھی ۔ کئی شہروں سے یوکرینی افواج پسپائی اختیار کر رہی تھیں۔ کچھ عمارتیں اور اہم ٹھکانے اور تنصیبات بھی نشانے پر آگئے تھے ۔ تاہم چند ہفتے قبل سے ایسا لگتا ہے کہ یوکرین نے جوابی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے ۔ روس کو ان علاقوں سے پسپائی اختیار کرنی پڑ رہی ہے جو اس نے یوکرین سے چھین لئے تھے ۔ ابتدائی مہینوں میں امریکہ اور دوسرے یوروپی ممالک کی جانب سے یوکرین کو لاکھوں بلین ڈالرس کی امداد فراہم کی گئی تھی ۔ یہ امداد اسلحہ اور ہتھیاروں کی شکل میں فراہم کی گئی تھی اور یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ یوکرین نے ان ہتھیاروں کا ذخیرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی بہتر انداز میں منصوبہ بندی کرلی تھی ۔ ابتدائی ایام کے نقصان کی پرواہ کئے بغیر طویل مدتی منصوبہ تیار کیا گیا تھا اوراسی منصوبے کے تحت اب جوابی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی چند ایام میں جہاںیوکرین کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور تباہی ہو رہی تھیں وہیں اب یوکرین کے نقصانات کا سلسلہ رک چکا ہے اور روس کو دفاعی موقف اختیار کرنا پڑ رہا ہے ۔ یوکرین کی جانب سے جوابی حملے کرتے ہوئے اپنے ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا جا رہا ہے جو ابتدائی ایام میں روس کے قبضے میں چلے گئے تھے ۔ خود روس کو اپنے نقصانات کا اعتراف کرنا پڑ رہا ہے اور یوکرین کی جانب سے بھی اس طرح کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔اس جنگ کے نو مہینے مکمل ہوچکے ہیں اور ابھی اس کے رکنے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سمرقند میںپوٹن سے ملاقات کے موقع پر جنگ کے تعلق سے جو ریمارک کیا ہے وہ اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ ایک طرح کی حقیقت ہے کہ آج کا دور کسی جنگ کا متقاضی نہیںہوسکتا ۔ آج کے دور میں جنگ لڑنی آسان نہیں ہے اور اس کے جو اثرات ہیں وہ انسانیت کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ جنگ حالانکہ روس اور یوکرین کے درمیان ہو رہی ہے لیکن اس کے اثرات ساری دنیا پر محسوس کئے جا رہے ہیں۔ اسی جنگ کی وجہ سے سارے یوروپ میں مہنگائی میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ برطانیہ کے عوام کو پہلی مرتبہ شائد ضروریات زندگی سے نمٹنے میں مشکل کا احساس ہونے لگا ہے ۔ وہاں تنخواہوں میں اضافہ کیلئے ملازمین کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ برقی کے اخراجات اور اخراجات زندگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ یوروپ اور خاص طور پر روس اور یوکرین کے پڑوسی ممالک کیلئے صورتحال اور بھی مشکل ہوگئی ہے ۔ دنیا بھر میں غذائی اجناس کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہونے لگی ہیں اس کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھ رہی ہے ۔ یوروپ اور امریکہ کی جانب سے پوٹن کے خلاف تحدیدات عائد کی گئی ہیں لیکن اس کے نتائج خاطر خواہ برآمد نہیں ہو رہے ہیں۔ پروپگنڈہ اور تشہیر کی جنگ بھی چل رہی ہے اور اس میں متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں۔ تاہم اس سب کے باوجود جنگ کے رکنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اس معاملے میں کوئی پہل کی گئی ہے ۔
نریندر مودی نے پوٹن سے بات چیت میں جو ریمارک کیا کہ آج کا دور جنگ کا دور نہیں ہے بالکل درست ہے ۔ جنگ کو روکنے کیلئے تمام متفکر گوشوں کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ خود پوٹن نے بھی کہا ہے کہ وہ جنگ کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں بین الاقوامی اداروں کو کسی ایک فریق کی تائید اور دوسرے کی مذمت کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ جنگ کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں جنگ ہو اس کے اثرات ساری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں اور انسانیت متاثر ہوتی ہے ۔ انسانیت کو بچانے تمام ذمہ دار گوشوں کو جنگ کو ختم کرنے آگے کی شدید ضرورت ہے ۔
