نئی دہلی: سپریم کورٹ نے یوپی میں بغیر لائسنس کے ہتھیار رکھنے اور استعمال کرنے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ یوپی میں بغیر لائسنس کے ہتھیاروں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ یوپی میں یہ رجحان پریشان کن ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں یوپی حکومت سے حلف نامہ طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا ہے کہ اس نے “آرمز ایکٹ یا کسی اور قانون کے تحت بغیر لائسنس کے ہتھیاروں کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔” یوپی حکومت سے چار ہفتوں میں حلف نامہ طلب کیا گیا ہے جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی ناگارتنا کی بنچ نے کہا، “امریکی آئین کے برعکس جہاں ہتھیار اٹھانے کا حق بنیادی حق ہے، ہمارے آئین کے بنانے والوں نے ہندوستان کے آئین کے تحت کسی کو بھی ایسا کوئی حق نہیں دیا ہے۔” سماعت کے دوران جسٹس کے ایم جوزف نے کہا، “میں کیرالہ سے ہوں، یہ وہاں سنا نہیں ہے، بہت کم معاملات ہوتے ہیں۔” جسٹس بی وی ناگارتنا نے کہا کہ یہ جاگیردارانہ ذہنیت ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ قدم باغپت علاقے میں 2017 میں ہوئے قتل کیس کے ملزمین کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران اٹھایا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ملزم نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔