بنگلورو میں موجود 16 باغیوں کے استعفوں پر فیصلہ باقی، کمل ناتھ حکومت اکثریت ثابت کرے، بی جے پی کا مطالبہ
بھوپال ، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے 22 باغی لیجسلیٹرز میں سے چھ ایم ایل ایز کے استعفے اسپیکر مدھیہ پردیش اسمبلی نے ہفتہ کو قبول کرلئے، جبکہ بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ کمل ناتھ حکومت اکثریت سے محروم ہوچکی ہے اور مطالبہ کیا کہ فلور ٹسٹ پیر کو شروع ہونے والے بجٹ سیشن سے قبل منعقد کیا جائے۔ ان چھ ارکان اسمبلی کو کمل ناتھ حکومت نے برطرف کردیا تھا جبکہ وہ دیگر 16 لیجسلیٹرز کے ساتھ جیوتیر آدتیہ سندھیا کی حمایت میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے۔ دریں اثناء کانگریس نے اپنے تمام ایل ایز کو وہپ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسمبلی سیشن کے دوران 16 مارچ تا 13 اپریل ایوان میں موجود رہیں اور حکومت کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ اسپیکر این پی پرجاپتی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’میں نے امارتی دیوی، تلسی سیلاوت، گوئند سنگھ راجپوت، مہیندر سنگھ سیسوڈیا، پردیومن سنگھ تومر اور پربھورام چودھری کا استعفا قبول کرلیا ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ایوان کی عددی طاقت گھٹ کر 222 ہوگئی، جس میں اکثریت کا نشان 112 ہے۔ اس ہفتے کے اوائل بغاوت سے قبل کانگریس کی عددی طاقت 114 تھی۔ اسے چار آزاد ارکان، دو بی ایس پی ایم ایلز اور ایک ایس پی رکن اسمبلی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس کے 16 باغی قانون ساز جو بنگلورو میں ہیں، ان کے استعفے ابھی قبول نہیں کئے گئے ہیں۔ بی جے پی کے پاس 107 نشستیں ہیں۔ گزشتہ دوشنبہ کو بغاوت کے بعد اپنی حکومت زوال کے دہانے پر پہنچ جانے پر چیف منسٹر کمل ناتھ نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے ان سے کانگریس لیجسلیٹرز کی ’’رہائی‘‘ کو یقینی بنانے کی اپیل کی تھی، جن کے تعلق سے اُن کا الزام ہے کہ انھیں بنگلورو میں ’’یرغمال‘‘ رکھا گیا ہے۔ بی جے پی نے بھی دباؤ بڑھایا اور ایک یادداشت گورنر لال جی ٹنڈن کو پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بجٹ سیشن سے قبل ایوان میں عددی طاقت کی آزمائش کرائی جائے، جو ندائی ووٹ نہیں بلکہ رائے دہی کے ذریعے ہو۔ جمعہ کی شام بھوپال کے کملا پارک علاقہ میں سندھیا کو کانگریس ورکرز نے سیاہ پرچم دکھائے جب وہ ایئرپورٹ کیلئے جارہے تھے۔
