10 برس میں کے سی آر خاندان نے ایک لاکھ کروڑروپئے لوٹے : راہول گاندھی

,

   

بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس میں ساز باز،کانگریس کارکن ببر شیر، الیکشن کے بعد عوامی حکومت کا آغاز، کولا پور میں جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد۔/31 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی نے کہا کہ 10 برسوں میں کے سی آر حکومت نے جو دولت لوٹی ہے اسے کانگریس عوام کی جیب میں منتقل کرنے کا عزم رکھتی ہے اور انتخابات کے بعد تلنگانہ میں حقیقی عوامی حکومت قائم ہوگی اور عوام کا سچا خواب پورا ہوگا۔ راہول گاندھی آج محبوب نگر ضلع کولا پور میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ جلسہ سے خطاب کیلئے پرینکا گاندھی آنے والی تھیں لیکن لمحہ آخر میں پروگرام تبدیل کردیا گیا اور راہول گاندھی کولا پور پہنچے۔ محبوب نگر میں کانگریس کا اب تک کا سب سے بڑا جلسہ عام کولا پور میں منعقد ہوا۔ راہول گاندھی نے بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ تینوں پارٹیاں باہم ملکر کام کررہی ہیں تاکہ کانگریس کو اقتدار سے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں جی ایس ٹی، مخالف کسان بل اور دیگر امور میں بی آر ایس نے بی جے پی کی مدد کی ہے۔ کے سی آر کی بی جے پی سے مفاہمت کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن چیف منسٹرس کے خلاف سی بی آئی، ای ڈی اور انکم ٹیکس مقدمات درج ہیں لیکن کے سی آر کے خلاف ایک بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان تینوں پارٹیوں کا اہم مقصد کانگریس کو تلنگانہ میں اقتدار سے روکنا ہے۔ مجلس پر تنقید کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ جہاں بھی بی جے پی کی مدد کرنی ہو وہاں مجلس مقابلہ کرتی ہے۔ راجستھان، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے علاوہ جہاں بھی بی جے پی ہدایت دے وہاں مجلس اپنا امیدوار کھڑا کرتی ہے تاکہ بی جے پی کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور مجلس کو ووٹ دینا ووٹ ضائع کرنے کے مترادف ہے، ان دونوں پارٹیوں کو ووٹ دینے سے بی جے پی کی مدد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور ملک میں بی جے پی سے مقابلہ ہے اور ہم پہلے تلنگانہ میں بی آر ایس کو ہرائیں گے اور 2024 چناؤ میں بی جے پی کو مرکز سے بیدخل کردیں گے۔ تلنگانہ عوام نے کانگریس کو برسراقتدار لانے کا من بنالیا ہے۔ بی آر ایس کے ساتھ دولت، حکومت اور میڈیا ہے جبکہ کانگریس کے ساتھ عوام اور سچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکرس ببر شیر کی طرح ہیں اور انہیں ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، آپ کا وقت آنے والا ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ انہوں نے تلنگانہ سے خاندانی روابط کا حوالہ دیا اور کہا کہ آج آنجہانی اندرا گاندھی کا شہید دیوس ہے، جب میری دادی کو ضرورت تھی اسوقت تلنگانہ نے ان کی مدد کی جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گا۔ تلنگانہ کے ساتھ میرا رشتہ سیاسی نہیں بلکہ خاندانی ہے۔ آپ کی جدوجہد کا احترام کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست تشکیل دی اور عوام نے عوامی حکومت کا خواب دیکھا ہے۔ تلنگانہ تشکیل کا مقصد غریب، کسان، مزدور، دلت، قبائیل اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچانا تھا لیکن 10 برسوں میں صرف ایک خاندان کو فائدہ ہوا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کرناٹک کی طرح تشکیل حکومت کے فوری بعد تمام وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔ جتنا پیسہ کے سی آر نے چوری کیا ہے اتنا پیسہ کانگریس آپ کی جیب میں منتقل کرے گی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ میں زمینداروں اور عوام کے درمیان مقابلہ ہے۔ ایک طرف کے سی آر اور ان کا خاندان ہے تو دوسری طرف عوام، خواتین اور بیروزگار نوجوان ہیں۔ کالیشورم پراجکٹ میں ایک لاکھ کروڑ کی لوٹ اور دھرانی کے نام پر کسانوں کی زمینات ہڑپنے کا الزام عائد کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ کو مقروض ریاست میں تبدیل کردیا گیا ہے اور قرض چکانے کیلئے 2040 تک ہر خاندان کو سالانہ 31500 روپئے ادا کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے غریبوں کو جو زمینات الاٹ کی تھی انہیں کے سی آر حکومت نے واپس لے لیا ہے۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے بجٹ نہیں ہے، عوامی شعبہ کے ادارے بند ہورہے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ عوامی تلنگانہ کا جو خواب آپ نے دیکھا تھا اسے کانگریس پارٹی پورا کرے گی۔ انہوں نے کانگریس کی 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا وعدہ کیا۔ جلسہ عام سے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا اور مقامی امیدوار جوپلی کرشنا راؤ نے مخاطب کیا۔