یہ سلسلہ تو جہاں میں ازل سے جاری ہے
کوئی شکار یہاں ہے کوئی شکاری ہے
مرکز کی نریندر مودی حکومت نے ایسا لگتا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو نت نئے انداز سے ورغلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے والے نریندر مودی نے گذشتہ آٹھ برسوں میں کبھی بھی ملازمتوں کے مسئلہ پر توجہ نہیں دی ۔ اس کے برخلاف جو ملازمتیں تھیں وہ بھی کورونا کی وجہ سے متاثر ہوگئیں۔ لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہوگئے تھے ۔ صنعتی اور مینوفیکچرنگ اداروں پر بھی گرتی معیشت اور کورونا کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہوئے تھے ۔ جملہ حالات میں ہندوستان کی جہاں معیشت متاثر ہوئی تھیں وہیں روزگار اور ملازمتوں کا شعبہ بھی بری طرح سے متاثر رہا تھا ۔ مختلف ریاستی حکومتوں کی جانب سے بھی سرکاری بھرتیوں کا سلسلہ روک دیا گیا تھا اور صرف کنٹراکٹ بنیادوں پر یا پھر آوٹ سورسنگ بنیادوں پر کام کیا جا رہا تھا ۔ جس طرح سے نریندر مودی نے سالانہ دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اس اعتبار سے اب تک مرکزی حکومت کو 16 کروڑ روزگار فراہم کرنے چاہئے تھے لیکن صرف چند لاکھ ملازمتوں کی فراہمی کے اور کچھ نہیں کیا گیا ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل حکومت پر تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ نوجوانوں کو تعلیم کے بعد نوکریاں نہیں مل رہی ہیں۔ چپراسی اور ڈرائیور کی نوری کیلئے پوسٹ گریجویٹ نوجوان تک درخواستیں دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ بعض مقامات پر چند سو نوکریوں کیلئے ایک لاکھ سے زائد بیروزگار نوجوانوں نے درخواست داخل کی تھی ۔ اس صورتحال میں اپوزیشن مسلسل حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی تھی اور حکومت کے پاس اس مسئلہ پر اپوزیشن کا جواب دینے کوئی مواد نہیں تھا ۔ یہی وجہ رہی کہ مختلف گوشوں کوا ستعمال کرتے ہوئے نزاعی اور اختلافی مسائل کو فروغ دیا گیا ۔ حجاب کا مسئلہ رہا تو حلال کا مسئلہ اٹھایا گیا ۔ کبھی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کو کہا گیا ۔ کبھی ٹی وی مباحث کے ذریعہ نفرت پھیلائی گئی تو کبھی کوئی اور طریقہ اختیار کیا گیا ۔
تمام مسائل کو انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہوا دی گئی ہے ۔ اترپردیش میں بلڈوزر کی سیاست کو رواج دیا گیا ۔ اب مسلمانوں کو مذہبی طور پر دلآزاری کرکے ٹھیس پہونچانے کی مہم شروع کی گئی تھی ۔ اس کے بعد بھی روزگار کا مسئلہ عوام کے ذہنوں میں ضرور موجود تھا ۔ توجہ ہٹانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ملازمتیں نوجوانوں کیلئے ترجیح ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے آج تمام وزارتوں کو ہدایت دی کہ دس لاکھ نوجوانوں کو نوکریاں دینے کیلئے تیاری کی جائے ۔ یہ بھرتیاں بھی چند مہینوں میں نہیں بلکہ آئندہ دیڑھ برس میں دی جائیں گی اور اس وقت تک انتخابات کا وقت قریب آجائیگا ۔ حکومت نوکریوں کے اعلان کے ذریعہ ایک بار پھر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت تین تا چھ مہینوں میں بھرتیوں کا عمل مکمل کرسکتی ہے لیکن دیڑھ سال کا جو وقت دیا جا رہا ہے اس سے حکومت کی نیت پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ اگر تقررات کے عمل میں کسی گوشے سے قانونی رکاوٹ پیدا کردی گئی تو یہ مسئلہ اور بھی طول پکڑسکتا ہے اور حکومت اپنے فائدہ کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ جس طرح سماج میں نفرت پھیلاتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور دو اہم طبقات کو ایک دوسرے سے متنفر کیا جا رہا ہے اسی طرح بھرتیوں اور تقررات کے نام پر بھی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس معاملے میں حکومت کی نیت پر شک پیدا ہونے اور سوال کرنے کا رد عمل فطری ہی کہا جاسکتا ہے ۔
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ صرف کورونا کی وجہ سے لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہوگئے ۔ ان کی ملازمتیں چھن گئیں۔ اگر اب حکومت کی جانب سے دس لاکھ تقررات کئے بھی جاتے ہیں تو یہ ناکافی ہونگے ۔ ملک کی ایک ایک ریاست ہی میں لاکھوں افراد بیروزگار ہیں۔ مرکزی حکومت اس تعداد کا سیاسی استحصال ہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ حکومت کو سنجیدگی سے اس مسئلہ پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ دس لاکھ سے کافی زیادہ سرکاری جائیدادیں تقرر طلب ہیں۔ صرف اعلان کرکے تشہیر حاصل کرنے کی بجائے ملازمتوں کے مسئلہ کو حل کرنے کی سمت کوشش کی جانی چاہئے ۔ انتخابی فائدہ حکومت کا مقصد نہیں ہونا چاہئے ۔
