سیاسی پارٹیوں کے نزدیک مسلمان صرف ووٹ بینک، مسلم نمائندگی کے بغیر کابینہ کی تشکیل پر بے چینی، تائید کا بدلہ چکانے کے بجائے بہانے بازی
حیدرآباد ۔8۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 10 سال کے وقفہ کے بعد کانگریس حکومت کی تشکیل نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سیاسی پارٹیوں میں مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور مسلم قائدین پارٹیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور میں برسر اقتدار پارٹی کے اقلیتی قائدین مطمئن نہیں تھے کیونکہ پارٹی قیادت نے نہ صرف سرکاری عہدوں بلکہ حکومت کی اسکیمات میں مسلمانوں کی موثر حصہ داری پر توجہ نہیں دی تھی ۔ اب جبکہ کانگریس تلنگانہ میں برسر اقتدار آچکی ہے لیکن کابینہ کی تشکیل جس انداز میں کی گئی ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان ووٹ بینک سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے اور سرکاری عہدوں پر نمائندگی کے معاملہ میں ہمیشہ کی طرح ہائی کمان کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران کانگریس نے مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے ہر دروازہ پر دستک دی اور مسلمانوں کے بااثر افراد اور اداروں سے رجوع ہوکر کرناٹک کی طرح تلنگانہ میں مسلمانوں کی تائید کی درخواست کی۔ جب تک ووٹ کی ضرورت تھی مسلمان سیاسی طور پر طاقتور دکھائی دے رہے تھے لیکن انتخابی نتائج کے ساتھ ہی مسلمانوں کی تائید کو فراموش کردیا گیا ۔ کرناٹک کی طرز پر مسلمانوں کو تلنگانہ میں نمائندگی کا وعدہ تھا لیکن کانگریس کی پہلی کابینہ مسلمانوں کے بغیر تشکیل دی گئی اور حیرت اس بات پر ہے کہ پارٹی قیادت کو اس بات کا کوئی احساس تک نہیں ہے ۔ کابینہ کی تشکیل میں دیگر طبقات کی نمائندگی کا خاص خیال رکھا گیا کیونکہ دیگر طبقات سیاسی طورپر طاقتور ہیں اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ہر پارٹی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کی کئی تنظیمیں ہیں جن میں تمام سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قائدین موجود ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پارٹی کے عہدوں اور حکومت میں ان کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے ہو۔ ریونت ریڈی کابینہ کے تشکیل کے موقع پر مختلف کمزور اور پسماندہ طبقات کے قائدین نہ صرف حیدرآباد بلکہ دہلی تک متحرک ہوگئے جس کے نتیجہ میں نہ صرف ڈپٹی چیف منسٹر بلکہ کابینہ میں 4 ارکان کی نمائندگی دی گئی۔ چیف منسٹر کے بشمول 12 رکنی کابینہ میں بی سی اور ایس سی کے دو دو اور ایس ٹی طبقہ کے ایک نمائندہ کو شامل کیا گیا ۔ ریڈی طبقہ چار وزراء کے ساتھ کابینہ پر چھایا ہوا ہے جبکہ ویلما ، کما اور برہمن جیسے اعلیٰ طبقات کو بھی نمائندگی دی گئی ۔ کابینہ کی تشکیل اور مسلمانوں کو نظر انداز کرنا عام مسلمانوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ الیکشن میں کانگریس کے حق میں انتخابی مہم چلانے والے مسلم قائدین اور تنظیمیں کانگریس قیادت کی سرد مہری سے حیرت میں ہیں۔ مسلم نمائندگی کے بغیر کابینہ کی تشکیل کا تصور نہیں تھا لیکن کانگریس نے مسلم نمائندگی کے بارے میں کوئی وضاحت تک کرنا گوارا نہیں کیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے نزدیک مسلمانوں کی حیثیت ووٹ بینک سے زیادہ اس لئے بھی نہیں ہے کیونکہ مسلمان متحد نہیں بلکہ منتشر ہیں۔ دیگر طبقات کے قائدین مختلف پارٹیوں میں موجود ہونے کے باوجود اپنے کاز کے لئے متحد ہوجاتے ہیں لیکن مسلمان کئی خانوں میں بٹ چکے ہیں جس کے نتیجہ میں قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں نمائندگی بتدریج گھٹ رہی ہے۔ کرناٹک کی طرح تلنگانہ میں مسلمانوں نے کانگریس کی تائید کی لیکن کابینہ میں مسلم نمائندگی کی عدم شمولیت سے جھٹکہ لگا ہے۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ تمام بڑے اضلاع میں مسلمانوں کے انتشار کا بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی قیادت کا دم بھرنے والے قائدین خود بھی نہیں چاہتے کہ مسلمان متحد ہوں۔ اسمبلی الیکشن میں بی آر ایس اور کانگریس کی تائید کے مسئلہ پر مسلم جماعتیں اور تنظیمیں منقسم دکھائی دیں لیکن عام مسلمانوں میں اپیلوں کی پرواہ کئے بغیر کانگریس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ مسلمانوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والی ایک جہاندیدہ شخصیت نے ریمارک کیا کہ 100 خداؤں کو ماننے والے متحد ہیں لیکن ایک خدا کو ماننے والے 100 گروپس میں تقسیم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو ’’یوز اینڈ تھرو‘‘ بنادیا ہے۔کابینہ میں مسلم نمائندگی کے مسئلہ پر کانگریس کی یہ دلیل عام مسلمانوں کیلئے ناقابل قبول ہے کہ کوئی بھی مسلمان اسمبلی کیلئے منتخب نہیں ہوا ہے۔ اگر اسمبلی کیلئے منتخب ہونا ہی کابینہ میں شمولیت کی شرط ہوتا تو مسلمان بھی تائید سے پہلے کابینہ میں شامل کرنے کی شرط رکھتے۔ مسلمانوں سے حقیقی ہمدردی اور ان کی تائید پر اظہار تشکر کا صحیح طریقہ یہی تھا کہ منتخب نہ ہونے کے باوجود کسی مسلمان کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے یہ پیام دیا جاتا کہ ہم نے تائید کے احسان کا بدلہ چکایا ہے۔ منتخب اور غیر منتخب کے بہانے کابینہ سے آخر کب تک مسلم نمائندگی کو محروم رکھا جائے گا ۔