11 یونیورسٹیز میں پروفیسرس کی 2070 جائیدادیں مخلوعہ

   

آئندہ جاب کیلنڈر میں انہیں شامل کرنے کی حکومت سے اپیل، عنقریب چیف منسٹر کا جائزہ اجلاس

حیدرآباد ۔ 28 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیر ایجوکیشن کونسل کی جانب سے ریاست کی یونیورسٹیز میں پروفیسرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کو آئندہ جاب کیلنڈر میں شامل کرنے کی حکومت سے درخواست کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ تلنگانہ ہائیر ایجوکیشن کونسل نے پروفیسرس کے تقررات کیلئے اپنائے جانے والے طریقہ کار کا تعین کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی نے گزشتہ سال نومبر میں ہی یہ واضح کردیا کہ ریاست کی 11 یونیورسٹیز میں 2817 کے منجملہ 2060 پروفیسرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ڈسمبر تک ان کی تعداد بڑھ کر 2070 تک پہنچ جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ نئی ویمن یونیورسٹی کے علاوہ محبوب نگر میں 11 اور انجنیئرنگ کالجس قائم ہوئے جس کیلئے نئی جائیدادیں منظور کرنے سے جائیدادوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوجائے گا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی بہت جلد وائس چانسلرس کا اجلاس طلب کر رہے ہیں جس میں تلنگانہ ہائیر ایجوکیشن کونسل کے صدرنشین بالا کشٹا ریڈی یونیورسٹی کے مشترکہ مسائل پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کریں گے تب یونیورسٹی کے مخلوعہ جائیدادوں پر تبادلہ خیال ہونے کا قوی امکان ہے ۔ صدرنشین کونسل کا دعویٰ ہے کہ پروفیسرس کی جائیدادوں پر تقررات کئے بغیر تعلیمی معیار اور یونیورسٹیز کے وقار کو بلند کرنا ممکن نہیں ہے ۔ جلد از جلد تقررات کا عمل شروع کریں۔ کم از کم 50 فیصد مخلوعہ جائیدادوں کو آئندہ جاب کیلنڈر میں شامل کرنے کی چیف منسٹر سے نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تقررات کے طریقہ کار کیلئے کمیٹی سے وصول رپورٹ چیف منسٹر کو پیش کی جائے گی ۔ امبیڈکر یونیورسٹی کے وائس چانسلر گھنٹہ چکراپانی کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں سینئر ماہرین تعلیم بھی شامل ہیں۔2