حیدرآباد۔/24 جولائی، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے بی جے پی میں شمولیت کے مسئلہ پر پھر ایک مرتبہ ’ یو ٹرن ‘ لیا ہے۔ دہلی میں امیت شاہ سے ملاقات کے بعد راجگوپال ریڈی کی عنقریب بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات گشت کرنے لگیں۔ سابق میں بھی راجگوپال ریڈی کی کانگریس قائدین سے ناراضگی اور پارٹی سرگرمیوں سے دوری کے سبب بی جے پی میں شمولیت کی قیاس آرائیاں کی جاچکی ہیں۔ تازہ ترین معاملہ میں ’ یو ٹرن ‘ لیتے ہوئے راجگوپال ریڈی نے کانگریس سے استعفی اور بی جے پی میں شمولیت کے امکانات کو مسترد کردیا تاہم انہوں نے یہ کہتے ہوئے تجسس کو برقرار رکھا ہے کہ اگر پارٹی تبدیل کرنا پڑے تو سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے کہہ کر اور حلقہ کی عوام سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راجگوپال ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کی جانب سے گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے اور اس مہم کے پس پردہ چیف منسٹر کے سی آر کار فرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر چاہتے ہیں کہ منگوڑ اسمبلی حلقہ میں ضمنی چناؤ کی صورتحال پیدا ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امیت شاہ سے ان کی ملاقات خفیہ نہیں بلکہ کھلے عام رہی اور اس ملاقات میں سیاسی مسائل پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی معاشی صورتحال کے بارے میں امیت شاہ کو واقف کرایا گیا۔ امیت شاہ سے میری ملاقات کے بعد سے کے سی آر کی نیند حرام ہوچکی ہے اور بی جے پی میں شمولیت کی افواہوں کو گشت کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی وہ قدر کرتے ہیں اور سونیا گاندھی کا احترام کرتے ہیں۔ گذشتہ چار دنوں سے بی جے پی میں شمولیت سے متعلق افواہوں کو ہوا دی جارہی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ منگوڑ میں ضمنی چناؤ کی صورتحال پیدا ہو۔ اگر کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنی پڑے تو اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دینے کے بعد فیصلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک سے غیر متعلق رہے افراد کو پارٹی میں اہم عہدے دیئے گئے ہیں۔ راجگوپال ریڈی نے کہا کہ سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کیلئے ان کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔ر