17سالہ آسٹریلین نوجوان یوسف زہاب کے بارے میں خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ جیل میں فوت ہوچکا ہے۔ یوسف زہاب 2019 سے شام کی ایک جیل میں بغیر کسی الزام کے قید تھا۔ اسے اس کے رشتہ دار 2015 میں سڈنی سے شام لے آئے تھے۔سڈنی میں موجود اس کا خاندان اس کی وجہ سے دل شکستہ اور دکھی تھا کہ ان کا بچہ کئی برس تک اپنی محفوظ واپسی کے لیے مدد مانگتا رہا مگر کوئی اس کی مدد نہ کر سکا۔ اگرچہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ آیا یوسف زہاب واقعی اب زندہ نہیں ہے۔ اس کے بارے میں انسانی حقوق سے متعلق گروپوں نے جنوری میں بتایا تھا کہ داعش کے ایک حملے میں وہ زخمی ہو گیا ہے۔داعش نے یہ حملہ کردوں کے کنٹرول میں شمال مشرق جیل پر کیا تھا تاکہ وہ اپے جنگجووں کو چھڑا سکے۔