2 ہزار کے کرنسی نوٹس کو واپس لیے جانے پر بدعنوان سیاستدانوں کی مخالفت

   

حکومت تلنگانہ ریاست کے عوام کو دھوکہ دینے کے بعد مہاراشٹرا کے عوام کو دھوکہ دینے کوشاں : جی کشن ریڈی
حیدرآباد۔22۔ مئی ۔(سیاست نیوز) بدعنوانیوں میں ملوث سیاستداں 2000 کے کرنسی نوٹوں کو واپس لئے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں ‘ رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس مسز کے کویتا کی گرفتاری مرکزی حکومت کے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا ہے اور دونوں اداروں کے عہدیدار قانون کے مطابق کام کرتے ہیں۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دہلی مسٹر منیش سسوڈیا شراب اسکام میں ملوث پائے گئے اور ایجنسی نے ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا ۔ مرکزی وزیر سیاحت مسٹر جی کشن ریڈی نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے ریاست کے عوام کو دھوکہ دینے کے بعد اب مہاراشٹرا میں وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں بھارت راشٹر سمیتی یونٹ کو مجلس اتحاد المسلمین چلا رہی ہے جو تلنگانہ میں برسراقتدار جماعت کی حلیف بنی ہوئی ہے۔ جی کشن ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست تلنگانہ کو مشیروں کی مرہون منت چھوڑدیا ہے اور مہاراشٹرا میں اپنی سیاست کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر نے ریاست میں جاری بدعنوانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوچکی ہے ۔ جی کشن ریڈی نے گذشتہ یوم صحافیوں کے ہمراہ غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ تلنگانہ بی جے پی میں کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی صدر کی تبدیلی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی قومی قائدین اس سلسلہ میں کوئی غور کر رہے ہیں بلکہ ریاست میں پارٹی کو مستحکم بنانے میں مصروف ہیں۔ انہو ںنے دعویٰ کیا کہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا تلنگانہ پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ تلنگانہ میں بی آر ایس کا مقابلہ صرف بی جے پی ہی کرسکتی ہے اور تلنگانہ عوام یہ جان چکے ہیں کہ ریاست میں برسراقتدار حکومت کو بے دخل کرنے کی طاقت صرف بھارتیہ جنتاپارٹی میں ہے۔مسٹر جی کشن ریڈی نے کہا کہ گذشتہ ایک دہے کے دوران ریاست تلنگانہ میں ہونے والی ترقی سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن بھارت راشٹرسمیتی کے ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل کے علاوہ دیگر قائدین رشوت اور بدعنوانیوں میں ملوث ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ بی جے پی عوام کے درمیان پہنچ کر ان کی بدعنوانیوں کو منظر عام پر لائے گی اور ان بدعنوانیوں کے خلاف مناسب فورم پر شکایت کرتے ہوئے کاروائی کیلئے نمائندگی کی جائے گی۔م