2 ہزار کرنسی نوٹ سے دستبرداری بی جے پی کے تغلق طرزِ حکمرانی کا ثبوت

   

مودی حکومت کوعوام کے بجائے کارپوریٹ اداروں کی فکر، صدر نشین کونسل سکھیندر ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔/21 مئی، ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے مرکزی حکومت پر نوٹ بندی کے فیصلہ کے ذریعہ عوامی مشکلات پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سکھیندر ریڈی نے کہا کہ 2 ہزار روپئے کرنسی نوٹ سے دستبرداری کا فیصلہ عوام کے حق میں نہیں ہے اور حکومت نے اس کے نتائج کی پرواہ کئے بغیر ہی یہ فیصلہ کیا ہے۔ سابق میں 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ منسوخ کئے گئے تھے جس کے بعد عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سکھیندر ریڈی نے کہا کہ 2 ہزار کے کرنسی نوٹ سے دستبرداری بی جے پی حکومت کے تغلق طرز حکمرانی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور عوام پھر ایک مرتبہ مسائل کا شکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے لیکن حکومت عوام کے مسائل میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ سکھیندر ریڈی نے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ غور و خوض کے بعد کوئی فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کے پس پردہ حکومت کا خفیہ ایجنڈہ ہے۔ نریندر مودی سے قربت رکھنے والے افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت پر عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی عوام کی بھلائی کی بجائے کارپوریٹ طبقہ کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں۔ سکھیندر ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں بی آر ایس قومی سطح پر عوام کیلئے امید کی کرن بن چکی ہے۔ر