فی ڈالر 10 روپئے اور سونے کی خریدی پر فی تولہ 8 ہزار کی اضافی ادائیگی
حیدرآباد۔23۔ مئی ۔(سیاست نیوز) ملک میں 2000 کی کرنسی نوٹ کو بند کردیئے جانے کے بعد ان کی تبدیلی ایک چیالنج بنتی جا رہی ہے اورجن کے پاس کثیر تعداد میں 2000کے نوٹ موجود ہیں وہ انہیں تبدیل کروانے متعدد طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں۔ 2000 کے نوٹ تبدیل کرنے سونے کی خریدی اور ڈالر کی خریدی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ہندستانی شہری جو 2000 کے کرنسی نوٹ کے ذریعہ ڈالر خرید رہے ہیں انہیں ڈالر کی قیمت 10 روپئے زیادہ ادا کرنی پڑرہی ہے کیونکہ حوالہ کے ذریعہ ڈالر کی قیمت 91تا92 روپئے ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ ڈالر کی سرکاری قدر 82 روپئے ہے۔ اسی طرح 2000 کے کرنسی نوٹوں کے ذریعہ سونا خریدنے کی کوشش پر سونے کی قیمت 8000 روپئے فی تولہ اضافہ ادا کرنی پڑرہی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے 2000 کے کرنسی نوٹ کو بند کرنے کے فیصلہ کے ساتھ ہی سونے کی خریدی اور ڈالر سے تبدیل کرنے کا آغاز ہوا جسے دیکھتے ہوئے ابتدائی طور پر صرافہ بازار میں اضافی قیمت میں سونے کی فروخت کا آغاز کیا گیا اور اب جبکہ 23 مئی سے بینکوں میں نوٹوں کی تبدیلی کا عمل شروع ہوا ہے تو 2000 کے کرنسی نوٹ سے سونا خریدنے والوں کو 70ہزار روپئے فی تولہ ادا کرنے پڑرہے ہیں اور اسی طرح حوالہ کے ذریعہ ڈالر خریدنے والوں کو 90 روپئے میں ڈالر حاصل ہورہا ہے اس کے باوجود جن لوگوں کے پاس 2000 کے کرنسی نوٹوں کا ذخیرہ ہے وہ ان کرنسی نوٹوں کے ذریعہ سونا یا ڈالر خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ہندستان کی مختلف ایجنسیوں کی جانب سے 2000 کے کرنسی نوٹوں کو واپس لینے کے فیصلہ کے بعد ان کے خرچ کے مقامات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ صرافہ بازار یا 2000 کے نوٹوں سے زمین و جائیدادوں کے علاوہ ڈالر کی خریدی کہاں ہو رہی ہے!۔م