ریاستی وزیر پنچایت راج ای دیاکر راؤ کے سروے سے بی آر ایس حلقوں میں کھلبلی
حیدرآباد : /17 جنوری (سیاست نیوز) ریاستی وزیر پنچایت راج و دیہی ترقیات ای دیاکر راؤ نے بی آر ایس کے 17 تا 20 ارکان اسمبلی کو تبدیل کرنے پر بی آر ایس کو 100 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بی آر ایس کے حلقوں میں سنسنی پیدا کردی ہے ۔ دیاکر راؤ کے ان ریمارکس کے بعد متحدہ ضلع ورنگل کے علاوہ ریاست کے دوسرے اضلاع کے بی آر ایس ارکان اسمبلی میں بے چینی کی کیفیت طاری ہوگئی ہے ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اس مرتبہ تمام موجودہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ جس کے بعد بیشتر ارکان اسمبلی نے راحت کی سانس لی تھی ۔ تاہم وزیر پنچایت راج نے کہا کہ انہوں نے اپنا سروے کرایا ہے ۔ جس میں عوام چیف منسٹر کے سی آر کو پسند کررہے ہیں اور ان کے نام پر ووٹ بھی ملنے والے ہیں تاہم 17 تا 20 ایسے ارکان اسمبلی ہیں جن کی کارکردگی سے عوام مطمئین نہیں ہے اور ناخوش بھی ہے ۔ انہیں دوبارہ ٹکٹ دیا بھی جاتا ہے تو بھی بی آر ایس 90 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست میں ہیٹ ٹرک کامیابی حاصل کریگی ۔ انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا اور ان کے بجائے دوسروں کو ٹکٹ دیا گیا تو بی آر ایس ارام سے 100 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ انہوں نے کھمم میں بی آر ایس کیے جلسہ عام کو کامیاب بنانے محبوب آباد میں منعقدہ بی آر ایس کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ ان کے اس ریمارکس پر اجلاس میں سہ نشین پر موجود بی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ کویتا نے تالیاں بجاکر مسکراتی رہیں ۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ ان کے سروے میں پتہ چلا ہے کہ بی آر ایس کو بی جے پی سے 15 تا 20 اسمبلی حلقوں پر اور 20 تا 25 اسمبلی حلقوں پر کانگریس سے مقابلہ ہے ۔ متحدہ اضلاع ورنگل اور کھم میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان راست مقابلہ ہے ۔ چند اسمبلی حلقوں پر بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان مقابلہ ہے ۔ ن