2000 کے نوٹ واپس لینے کے فیصلے کے بعد سونے کی خریدی میں اضافہ

   

حیدرآباد۔21۔ مئی ۔(سیاست نیوز) 2000کے کرنسی نوٹ واپس لینے کے فیصلہ کے ساتھ ہی بھاری مقدار میں نوٹ جمع رکھنے والوں نے 2000 کے کرنسی نوٹوں کو سونے سے تبدیل کرنا شروع کردیا ہے اور اس قیمتی دھات کی خریدی میں گذشتہ دو یوم میں بھاری اضافہ ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رئیل اسٹیٹ تاجرین اور نقد معاملتیں کرنے والے تاجرین جن کے پاس 2000 کے کرنسی نوٹ موجود ہیں نے اپنے کرنسی نوٹوں کو بینک میں تبدیل کروانے کی بجائے سونے کی خریدی کے ذریعہ خرچ کرنے کی راہ نکال لی ہے اور وہ بھاری مقدار میں سونا خرید رہے ہیں۔ صرافہ بازار نے جمعہ کو ریزرو بینک کے اعلان کے بعد روڑپتی شہری جو 2000کے کرنسی نوٹ رکھتے ہیں ان کی جانب سے کی جانے والی خریداری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ’اس گلابی نوٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے‘ دونوں شہروں ہی نہیں بلکہ ملک کے کئی سرکردہ شہروں میں اچانک سونے اور زیورات کی خریداری میں اضافہ ہونے لگا ہے اور 2000 کے کرنسی نوٹوں کا ذخیرہ رکھنے والوں نے زیورات کی خریدی شروع کردی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جمعہ کی شب ریزرو بینک کے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی سونے کی فروخت میں اضافہ ہونے لگا ہے اور زیادہ تر زیورات اور سونے کی خریدی کیلئے خریدار 2000 کے کرنسی نوٹ ادا کر رہے ہیں۔ صرافہ بازار تاجرین کا کہناہے کہ 2000 کے کرنسی نوٹ میں وہ کاروبار اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کی فروخت اور انہیں حاصل ہونے والی رقومات کا بیشتر حصہ بینک کو پہنچتا ہے اسی لئے انہیں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ کہا جا رہاہے کہ جو لوگ 2000کے کرنسی نوٹ کو سونے میں تبدیل کر رہے ہیں وہ 5 تا 10لاکھ کے سونے کی خریدی کر رہے ہیں اور مختلف افراد خاندان کے پیان کارڈ پر یہ خریدی کی جا رہی ہے علاوہ ازیں بعض شہری بغیر پیان کارڈ کے بھی سونا خرید رہے ہیں اور بعض صرافہ بازار تاجرین انہیں اس طرح سے سونا فروخت بھی کر رہے ہیں جبکہ ایسا کرنا ان تاجرین کیلئے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ بازار میں آنے والے اچھال میں زیادہ کاروبار کی کوشش میں مصروف ہیں۔