سابقہ ادھو حکومت نے متوفی کے رشتہ داروں کے مطالبہ کے باوجود کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپنے سے انکار کردیا تھا
نئی دہلی: مہاراشٹرا کی ایکناتھ شندے حکومت نے منگل کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ سال 2020 میں ریاست کے پالگھر میں دو ہندو سادھوؤں کے ‘قتل’ کیس کی اسے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ مہاراشٹر حکومت نے ایڈوکیٹ ششانک شیکھر جھا اور دیگر کے ذریعہ دائر کردہ مفاد عامی کی عرضی پر ایک تازہ حلف نامہ داخل کرکے اپنا موقف پیش کیا۔ جونا اکھاڑہ کے پنچداسنم کے ایڈوکیٹ گھنشیام اپادھیائے اور مہنت شردھانند سرسوتی کے علاوہ، دونوں متوفی سادھوؤں کے اہل خانہ نے ایڈوکیٹ بالاجی سری نواسن اور آشوتوش لوہیا کے ذریعے اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ حلف نامہ میں مہاراشٹر حکومت نے کہا کہ وہ پالگھر واقعہ کی منصفانہ اور آزاد تحقیقات کے لیے کیس سی بی آئی کو سونپنے کے لیے تیار ہے ۔ انہیں سی بی آئی سے جانچ کرانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ مسٹر ادھو ٹھاکرے کی سربراہی میں ریاست کی سابقہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے متوفی کے رشتہ داروں اور دیگر لوگوں کے مطالبات کے باوجود کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپنے سے انکار کر دیا تھا۔ حکومت نے پہلے ہی اس معاملے کو ریاست کی سی بی ۔سی آئی ڈی کو منتقل کر دیا تھا۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ 16 اپریل 2020 کو مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے گڈچنچلے گاؤں میں ایک ہجوم نے جونا اکھاڑہ کے دو سادھوؤں – چکنے مہاراج کلپاورکشگیری (70) اور سشیل گیری مہاراج (35) کو ان کے 30 سالہ ڈرائیور کے ساتھ مار پیٹ کرکے قتل کردیا تھا۔ دونوں سادھو گجرات کے سورت جا رہے تھے ۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ پولیس موقع پر موجود تھی، لیکن اس نے مبینہ طور پر بھیڑ کو روکنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی سادھوؤں کو بچانے کی کوئی ٹھوس کوشش کی۔ مہاراشٹرا پولس، تاہم، اس معاملے میں 126 ملزمان کے خلاف پہلے ہی چارج شیٹ داخل کر چکی ہے ۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے 6 اگست 2020 کو مہاراشٹر حکومت سے پالگھر کے وحشیانہ قتل کیس کے سلسلے میں دائر چارج شیٹ کو ریکارڈ پر لانے کو کہا تھا۔