بی بی سی ڈاکیومنٹری پر پابندی افسوسناک،ظلم اور تکبر کا خاتمہ ضروری، اسمبلی میں تصرف بل مباحث پر چیف منسٹر کا جواب
حیدرآباد۔/12فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر ہر شعبہ میں ناکامی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ 2024 ملک میں بی جے پی دور کا خاتمہ ثابت ہوگا۔ اسمبلی میں تصرف بل پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے مرکز کی ناکامیوں پر روشنی ڈالی اور ملک کی کمزور معاشی صورتحال پر سی اے جی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ کے سی آر نے وزیر اعظم مودی سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کے ساتھ جانبداری اور ناانصافی کا رویہ ترک کریں اور تلنگانہ کو جائز حق دیا جائے۔ چیف منسٹر نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی ستائش کی اور کہا کہ ان کی کارکردگی نریندر مودی سے بہتر تھی۔ کے سی آر نے گجرات فسادات میں مودی کے رول پر بی بی سی کی ڈاکیومنٹری پر ہندوستان میں پابندی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہر کسی کو ضبط و تحمل کا جذبہ رکھنا چاہیئے۔ اقتدار کسی کیلئے مستقل نہیں ہوتا اور ہر کوئی اقتدار کیلئے عوام کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ کے سی آر نے دو گھنٹے سے زائد تقریر میںمرکز اور اس کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے اور تلنگانہ سے جانبداری کا رویہ ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ بنگلہ دیش جنگ کے بعد سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی زبردست تعریف کی گئی لیکن عوام نے کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کردیا تھا۔ اقتدار عارضی ہوتا ہے اور عوام ووٹ کے ذریعہ مناسب سبق سکھاتے ہیں۔ میڈیکل کالجس کی منظوری میں تلنگانہ سے ناانصافی کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ملک میں 157 میڈیکل کالجس منظور کئے گئے لیکن تلنگانہ کیلئے ایک بھی کالج نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ترقی اور بھلائی کے نظریہ سے محروم ہے۔ جب بی جے پی نے تلنگانہ کیلئے ایک میڈیکل کالج منظور نہیں کیا تو پھر ہم بی جے پی کو ووٹ کیوں دیں ۔ مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد ملک میں 20 لاکھ افراد نے ہندوستانی شہریت ترک کردی ہے۔ عوام امریکہ میں بچوں کو گرین کارڈ ملنے پر خوشیاں منارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی بہتر کارکردگی کے باوجود انہوں نے کوئی نمود و نمائش یا شہرت کی خواہش نہیں کی برخلاف اس کے ہر شعبہ میں کمزور مظاہرے کے باوجود بی جے پی بلند بانگ دعوے کررہی ہے ۔کے سی آر نے کہا کہ وہ کانگریس رکن نہیں ہیں لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ منموہن سنگھ کے دور میں ملک نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے تلنگانہ کو 3 لاکھ کروڑ سے محروم رکھا ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ اڈانی معاملہ پر مودی کی خاموشی معنی خیز ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں اور عوام کیلئے تیقن کا ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا۔ وزیر فینانس نرملا سیتا رامن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ وزیر اعظم کی تصویر نہ لگانے پر نرملا سیتا رامن راشن شاپ ڈیلرس سے الجھ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 192 ممالک میں انفرادی آمدنی میں ہندوستان 139 ویں نمبر پر ہے جبکہ بنگلہ دیش، بھوٹان و سری لنکا ہندوستان سے آگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناکامیوں کے باوجود مودی کی تعریفوں کے پُل باندھے جا رہے ہیں۔ ملک میں مودی اور بی جے پی کی کامیابی ضرور ہوئی لیکن عوام ہار گئے۔ کے سی آر نے چیلنج کیا کہ اگر مرکز پر ان کے بیان کو غلط ثابت کیا جائے تو وہ استعفی دینے تیار ہیں ۔ کے سی آر نے کہا کہ مرکزکا ظلم اور تکبر زیادہ دن چل نہیں پائے گا۔ جمہوری ملک میں کوئی مستقل اقتدار کا دعویٰ نہیں کرسکتا اور 2024 کے بعد بی جے پی کا زوال یقینی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کی ڈاکیومنٹری کے خلاف عدالت میں مقدمہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ پارٹی کے غرور اور تکبر کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا ہندوستان کیلئے کیا کہہ رہی ہے اور یہ جمہوریت کے احترام کا طریقہ کار نہیں ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو سننے تیار نہ ہوں۔ ہر کسی میں ضبط اور برداشت کا مادہ ہونا چاہیئے۔ر