50 لاکھ مسلمان اب بھی سبسیڈی قرض کے بجٹ سے محروم
حیدرآباد۔24۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) ملک بھر میں خون مسلم کی ارزانی کی کئی ایک مثالیں منظر عام پر آتی رہی ہیں لیکن تلنگانہ میں وجود مسلم بھی برداشت نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ مسلمانوں کو منظم انداز میں تعلیم و تربیت کے علاوہ تجارتی معاملات میں پس پشت کرنے کی سازش کی جانے لگی ہے! ریاستی حکومت تمام طبقات کی یکساں ترقی کے دعوے تو کرتی ہے لیکن جب معاملہ مسلمانوں کا آتا ہے تو حکومت میں شامل مسلم قائدین اور وزراء کے علاوہ برسراقتدار جماعت کی تائید کرنے والی تنظیموں کی زبانیں بھی گنگ ہوجاتی ہیں۔ تلنگانہ میں سوائے مسلمانوں کے تمام طبقات کے لئے حکومت کے پاس بجٹ موجود ہے لیکن مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کی جب بات آتی ہے تو ریاستی حکومت کو بجٹ کی قلت کا سامنا ہوتا ہے ۔ ریاستی حکومت دھنگروں کی آمدنی میں اضافہ اور انہیں مویشیوں کی تقسیم کے لئے اب تک 12ہزار کروڑ روپئے کے مویشی تقسیم کرچکی ہے جبکہ ریاست میں دھنگروں کی آبادی مجموعی طور پر 3لاکھ 50ہزار ہے اور ان میں اب تک 12ہزار کروڑ کے مویشی تقسیم کئے جاچکے ہیں جبکہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی 50لاکھ سے زیادہ ہے لیکن ان کی ترقی و فلاح و بہبود کے معاملہ میں حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے انہیں بینک سے مربوط قرضہ جات کی فراہمی کے سلسلہ میں اب تک بجٹ جاری نہیںکیا گیا ۔ حکومت تلنگانہ کی مسلمانوں سے بے اعتنائی اور انہیں نظرانداز کرنے کی پالیسی کے لئے صرف منتخبہ عوامی نمائندے ہی نہیں بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے دفاتر میں براجمان عہدیدار بھی برابر کے ذمہ دارہیں ۔ بکروں کی افزائش و فروخت کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے والے دھنگر جن کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے مویشیوں کی فراہمی کی اسکیم شروع کی گئی ہے اس اسکیم کے تحت ریاستی حکومت نے اب تک دو مرتبہ مویشیوں کی تقسیم عمل میں لائی اور ایک وقت میں 6000کروڑ کی مالیت کے مویشیوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی اور دوسری مرتبہ بھی مساوی مالیت کے مویشیوں کی تقسیم عمل میں لائی جاچکی ہے اس اعتبار سے اگر دھنگروں کی جملہ آبادی یعنی 3.5لاکھ افراد میں یہ رقم تقسیم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ریاستی حکومت نے ان دھنگر طبقہ سے تعلق رکھنے والوں پر فی کس 1لاکھ 72 ہزار روپئے خرچ کئے ہیں جبکہ ریاست تلنگانہ میں 50 لاکھ کی آبادی مسلمانوں کی ہے اور ان 50لاکھ میں تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے قرضہ جات کی فراہمی کے لئے وصول کی گئی درخواستوں کا جائزہ لینے پر محض 2لاکھ افراد نے ان قرضہ جات کے لئے درخواستیں داخل کی ہیں جن میں 26ہزار درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے لیکن ان کی رقومات اب تک جاری نہیں کی جاسکی ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے صرف دھنگروں کے لئے ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے کاروباریوں کے لئے بھی منصوبہ تیار کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کی جارہی ہے اور مچھیروں کے لئے مچھلیاں فراہم کرنے کے علاوہ ان کی افزائش کے لئے مالیہ کی فراہمی عمل میں لائی جارہی ہے لیکن اگر حکومت کسی طبقہ کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے تو وہ ہے مسلمان ۔ مسلم نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے علاوہ انہیں ہنر مند بنانے کے نام پر کروڑہا روپئے خرچ کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن نتائج کچھ نہیں ہیں۔ ریاستی حکومت تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود میں موجود عہدیداراس سلسلہ میں کسی سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں مسلم نوجوانوں اور مسلم طبقہ کی ترقی سے کوئی دلچسپی ہے۔ م