سیاسی اورمذہبی ٹھیکیداروں کی من مانی، اضلاع میں وزراء اور ارکان اسمبلی پریشان، مذہبی شخصیتوں کے مکانات پر حاضری
حیدرآباد6۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو اقتدار تک پہنچنے مسلم اقلیت کی تائید ضروری ہے۔ علحدہ تلنگانہ کے قیام کے بعد مسلم رائے دہندے تقریباً 40 سے زائد اسمبلی حلقوں میں فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں لیکن مسلم رائے دہندوں کو سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی قیادت نے بھی مسلمانوں کو ان کی اہمیت سے واقف نہیں کرایا اور مسلمانوں کے نام پر اپنے مفادات کی تکمیل کو ترجیح دیتے رہے۔ انتخابات آتے ہی بعض مذہبی جماعتیں و تنظیمیں مسلمانوں کی رہنمائی کے نام پر میدان میں کود پڑتی ہیں لیکن 40 اسمبلی حلقہ جات کے ووٹرس کو ان کی اہمیت سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں بیٹھ کر مسلمانوں کے ووٹ کی تجارت کرنے والے سیاسی اور مذہبی قائدین کو گزشتہ 10 برسوں سے برسر اقتدار بی آر ایس نے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا اور بعض سرکاری اداروں میں نمائندگی دے کر تائید کا معاوضہ ادا کردیا۔ گزشتہ 10 برسوں میں بی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مسلمانوں میں مایوسی ہے جس کا واضح اثر اسمبلی چناؤ کی انتخابی مہم میں دیکھا جارہا ہے۔ مسلمانوں کا جھکاؤ اس مرتبہ کانگریس کی طرف ہے تاکہ 10 سال کے وقفہ کے بعد تبدیلی کا تجربہ کیا جائے تاکہ مسلمانوں کی حقیقی معنوں میں ترقی ممکن ہوسکے۔ تبدیلی کے رجحان کے باوجود مسلمانوں کی روایتی سیاسی اور مذہبی قیادتوں نے برسر اقتدار پارٹی کو بھروسہ دلایا کہ وہ مسلمانوں کو کانگریس کی طرف جانے سے روکیں گے ۔ مقامی جماعت مجلس جو بی آر ایس کی حلیف کا رول ادا کر رہی ہے ، اس نے شہر اور اضلاع میں بی آر ایس کی تائید کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ مجلس کی ہدایت پر کام کرنے والے یونائٹیڈ مسلم فورم نے کانگریس قائدین سے ملاقات کے بغیر ہی بی آر ایس کی تائید کا اعلان کردیا۔ مجلس اور فورم نے بھلے ہی کے سی آر کی تائید کا اعلان کیا لیکن اضلاع کی سطح پر مسلمان اپیل کو قبول کرنے تیار دکھائی نہیں دیتے ۔ انتخابی مہم میں مصروف وزراء اور بی آر ایس امیدواروں کو مسلمانوں کی ناراضگی و دوری کا احساس شدت سے ستا رہا ہے۔ مسلمانوں کو خوش کرنے وزراء اور بی آر ایس ارکان اسمبلی اپنے حلقہ جات میں موجود مسلم تنظیموں اور مذہبی شخصیتوں کی قیامگاہ پہنچ کر تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کوئی مذہبی شخصیت حیدرآباد میں علاج کے بعد اپنے گاؤں واپس ہو تو فوری ریاستی وزیر یا پھر مقامی رکن اسمبلی قیامگاہ پہنچ کر عیادت کر رہے ہیں۔ عام حالات میں جن سے ملاقات کرنا گوارا نہیں کرتے ، ان کے مکانات پہنچ کر اظہار ہمدردی کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو 40 اسمبلی حلقہ جات میں اپنے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ کرنا ہوگا۔ مسلم غیر سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں میں ووٹ کی اہمیت سے متعلق شعور بیدار کریں تاکہ آئندہ کسی بھی حکومت کی تشکیل میں مسلمانوں کی حصہ داری رہے اور تشکیل حکومت کے بعد حکومت مسلمانوں کے ساتھ محض وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ 40 اسمبلی حلقہ جات کے مسلمان اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت سے واقف نہیں ہیں اور مقامی سطح کے قائدین مسلمانوں کے ووٹ کے نام پر اپنے مفادات کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ جس دن مسلمان اپنے ووٹ کی طاقت کا اندازہ کرلیں گے ، اس کے بعد سے اسمبلی کے ٹکٹ اور کابینہ میں مسلمانوں کی شمولیت کیلئے سیاسی پارٹیوں سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ سیاسی پارٹیاں خود مناسب نمائندگی کیلئے مجبور ہوجائیں گی۔