مسلم ووٹ بینک کیلئے کے سی آر کا مجلس پر انحصار، بی آر ایس قائدین بھی عہدوں کیلئے مقامی جماعت کی سفارش پر مجبور، اسمبلی چناؤ میں مسلمان باشعور فیصلہ کیلئے تیار
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے ہتھیلی میں جنت دکھائی گئی۔ تحریک کی قیادت کرنے والی اسوقت کی ٹی آر ایس لیڈرشپ نے مسلمانوں کو ترقی اور خوشحالی کا وعدہ کیا تھا اور مسلمانوں نے اس امید کے ساتھ تحریک میں نئی جان ڈال دی کہ نئی ریاست میں ان کی پسماندگی ختم ہوگی۔ گذشتہ 10 برسوں کے دوران کے سی آر حکومت کی اقلیتوں سے متعلق پالیسی کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ حکومت نے صرف ’’ کان خوش کرنے ‘‘ کے سوا کوئی عملی اقدامات نہیں کئے۔ مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے حکومت کی سطح پر اقدامات کے بجائے انہیں حلیف جماعت مجلس کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔ حد تو یہ ہوگئی کہ بی آر ایس کے مسلم قائدین خود بھی سرکاری عہدوں کے حصول کیلئے مقامی جماعت کی سفارش کیلئے مجبور کردیئے گئے اور تقررات کے فیصلے بھی حلیف جماعت کی مرضی کے مطابق ہونے لگے۔ ظاہر ہے کہ جب برسراقتدار پارٹی کے قائدین اور کارکن اپنی پارٹی کی قیادت کے بجائے حلیف جماعت کی سفارش حاصل کرنے کیلئے مجبور ہوجائیں تو پھر ان کے حوصلوں کا پست ہونا لازمی ہے۔ مسلمانوں کی ترقی کے بجائے کے سی آر نے حلیف جماعت کے قائدین کو خوش کرنے پر ساری توجہ مرکوز کی اور ان کی خوشی کو مسلمانوں کی ترقی تصور کیا۔ جب کبھی مسلمانوں کی جانب سے مطالبات پیش کئے جاتے تو کے سی آر حلیف جماعت کی طرف دیکھنے لگتے اور یہ تاثر دیا جاتا کہ وہ جو کہیں گے وہی ہوگا، آپ کو کچھ چاہیئے تو حکومت کے بجائے حلیف جماعت سے رجوع ہوکر سفارش لائیں۔ کے سی آر کی اس پالیسی نے مسلمانوں کو حلیف جماعت کا عملاً یرغمال بنادیا حالانکہ مسلمان آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کے سی آر کو یقین ہوچلا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ بینک کو حاصل کرنے کا واحد راستہ مجلس ہے۔ عام مسلمان بھلے ہی حکومت سے مطمئن نہ ہوں لیکن ان کے ووٹ دلانا مجلس کی ذمہ داری رہے گی۔ یہی نظریہ ہے کہ کے سی آر نے 10 برسوں میں راست طور پر مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات قریب ہیں کے سی آر نے مسلمانوں کو حلیف جماعت کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے جس کا خمیازہ انہیں نتائج کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ گذشتہ دس برسوں میں ایک سال بھی ایسا نہیں جب اقلیتی بہبود کیلئے مختص کردہ مکمل بجٹ خرچ کیا گیا ہو۔ دعوے تو بہت کئے گئے لیکن ایک سال بھی مکمل بجٹ جاری نہیں ہوا اور نہ ہی تعلیمی ترقی سے متعلق اسکیمات میں کوئی پیش رفت ہوئی۔ کے سی آر نے حکومت کی مداح سرائی اور کارناموں کو پیش کرنے کی ذمہ داری مقامی جماعت کی قیادت کو سونپ دی ہے اور حالیہ عرصہ میں بی آر ایس مسلم قائدین سے زیادہ مجلسی قیادت کے سی آر اور ان کی حکومت کی مسلم دوستی کے گن گارہی ہے۔ بی آر ایس قائدین اور کارکن خود حیرت میں ہیں کہ آخر وہ بی آر ایس میں رہ کر بھی اپنی علحدہ شناخت نہیں بناسکے۔ حکومت تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے مسلمانوں کی ترقی پر 12 ہزار کروڑ خرچ کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب رقم خرچ ہوئی ہے تو پھر اس کے نتائج بھی منظرعام پرآنے چاہیئے۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ 12 ہزار کروڑ دعویٰ کے باوجود مسلمانوں کی پسماندگی جوں کی توں برقرار ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں آندھرائی حکمرانوں پر مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد تھا ۔ کے سی آر نے اقتدار کے چار ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا لیکن آج بھی کانگریس کے چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی جانب سے فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات ہی برقرار ہیں۔ کے سی آر نے 12 فیصد تو کجا ایک فیصد کا بھی اضافہ نہیں کیا برخلاف اس کے ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کو 10 فیصد کرتے ہوئے احکامات جاری کئے گئے۔ پسماندہ طبقات کیلئے حکومت نے کئی نئی اسکیمات متعارف کی لیکن وعدہ کے مطابق ایس سی، ایس ٹی کے مماثل مراعات سے مسلمانوں کو محروم رکھا گیا۔ بی سی طبقہ کے معاشی طور پر کمزور افراد کو بھیڑ بکریاں اور مچھیروں کو مچھلیوں کی افزائش کیلئے تالاب میں سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ایس سی طبقہ کو جن میں دلتوں کی اکثریت ہے انہیں فی کس 10 لاکھ روپئے کی امداد سے متعلق دلت بندھو اسکیم کا نہ صرف اعلان کیا گیا بلکہ ہر اسمبلی حلقہ میں عمل آوری کی گئی۔ مسلمانوں کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے 9 برسوں میں بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم پر عمل نہیں کیا گیا جبکہ ڈھائی لاکھ سے زائد درخواستیں داخل کی گئیں۔ الیکشن سے عین قبل مسلمانوں کو خوش کرنے محدود افراد میں فی کس ایک لاکھ روپئے کی امداد کا اعلان کیا گیا۔ تاحال دو مراحل میں20 ہزار افراد کو یہ امداد دی گئی لیکن عام شکایت یہ ہے کہ برسراقتدار اور حلیف جماعت کے کارکنوں کو امداد دی گئی۔ یہ دراصل انتخابی مہم میں حصہ لینے پیشگی رقم کی ادائیگی کی طرح ہے۔ اب جبکہ اسمبلی چناؤ شیڈول کا عنقریب اعلان ہوگا لہذا لمحہ آخر میں مختلف افتتاح اور سنگ بنیاد کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ عام مسلمانوں کا یہ تاثر ہے کہ اگر حکومت نے ہزاروں کروڑ خرچ کئے تو پھر اس کے نتائج برآمد کیوں نہیں ہوئے۔ آخر ہزاروں کروڑ کی یہ رقم کہاں خرچ کی گئی یا پھر اس رقم کو بڑے لوگوں کی جیب میں منتقل کردیا گیا۔ اسمبلی چناؤ میں مسلم ووٹرس کان خوش کرنے یا پھر ہتھیلی میں جنت جیسے سیاسی حربوں پر بھروسہ کئے بغیر اپنے شعور کا مظاہرہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔