60 سالہ دور میں مسلمانوں کے اقلیتی ادارہ جات مجلس کا کارنامہ : اکبر

   

مسائل اٹھانے پر بی جے پی کی بی ٹیم کہا جارہا ہے ، ذات پات سروے میں مسلمانوں کو شامل کیا جائے
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کو ہم ہرگز نہیں بھولیں گے ۔ بابری مسجد شہید کرتے ہوئے مسلمانوں کو ضرب پہونچانے والوں ، تکلیف دینے والوں اور ہمیں گولیاں مارنے والوں کو بھارت رتن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔ ذات پات کی مردم شماری سروے میں مسلمانوں کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ریاستی وزیر بی سی ویلفیر پونم پربھاکر نے آج ذات پات کی مردم شماری کرانے کی اسمبلی میں قرار داد پیش کی جس کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ قرار داد کی تائید و حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو سے ڈاکٹر منموہن سنگھ تک سب کو آزمایہ ہے سب سے امیدیں وابستہ کی ہیں سبھی نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ سچر کمیٹی ، گوپال سنگھ کمیٹی ، رنگناتھ مشرا کمیشن کے علاوہ مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی ، سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دئیے گئے کمیٹیاں اور کمیشنس نے مسلمانوں کو پسماندہ طبقات سے بھی زیادہ پسماندہ قرار دیا ہے ۔ ہم کسی سے بھیک نہیں چاہتے ہیں ۔ دستور نے سماج کے دوسرے طبقات کے ساتھ اقلیتوں کو جو حقوق دئیے ہیں وہی حقوق مانگ رہے ہیں ریڈی ، کمہ ، بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی طبقات اپنے اپنے طبقہ کی ترقی ، خوشحالی کی باتیں کرتے ہیں ان سے کسی کو کوئی شکایت نہیں ہے ہم دیگر طبقات کی مکمل تائید کرنے کے بعد مسلمانوں کے مسائل کو پیش کررہے ہیں تو ہمیں بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا جارہا ہے ۔ دوسروں کا ڈر دیکھاکر ہماری تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ سب سے بڑی اقلیت مسلمان ہیں زیادہ پسماندہ ہے ۔ ہم ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور دیگر طبقات کو زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے ترقی دینے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں دیگر طبقات بھی مسلمانوں کی ترقی اور بہبود کے لیے بات کریں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں ۔ ریاست میں کانگریس ، تلگو دیشم اور بی آر ایس کا ساتھ دیا ہے ۔ پھر بھی پسماندہ تھے اور پسماندہ ہیں ۔ سب کو آزمانے کے بعد مجلس نے 1960 میں اسمبلی میں قدم رکھا ۔ مسلمانوں کی ترقی اور بہبود کے لیے حکومتوں کو مجبور کیا مختلف قوانین بناتے ہوئے مسلمانوں کی اراضیات چھین لی گئیں ۔ ملازمتوں سے محروم کیا گیا پولیس ایکشن کے ذریعہ ظلم و زیادتیں کی گئیں ۔ عصمت لوٹی گئی ۔ ہمارا تخت و تاج چھین کر رکشہ چلانے کے لیے مجبور کیا گیا ۔ آج مسلمان اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کررہے ہیں حکومت زیادہ سے زیادہ فنڈز دیں ۔ ہمیں امید ہے کانگریس حکومت مسلمانوں کی امیدوں پر پانی نہیں پھیرے گی ۔ ہم ریڈی کے دم چھلہ ہے نہ راؤ کے دم چھلہ تھے ۔ دستور نے ہم کو جو حقوق دئیے ہیں اس کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے ۔ اکبر الدین اویسی نے قرار داد کی قانونی اہمیت نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بل پیش کرنے پر زور دیا ۔ تجاویز چاہئے تو کل جماعتی اجلاس طلب کرنے پر زور دیا یا مختصر مباحث کرنے یا پھر اس پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بہت سیاست ہوگئی ۔۔ 2