اعداد و شمار میں سیاسی مداخلت کے اندیشے ۔ سابق فینانس سکریٹری سبھاش چندرا گارگ
نئی دہلی 7 ستمبر ( ایجنسیز ) وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ہندوستان میں 7.8فیصد کی شرح سے ترقی کے دعوے پر ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور کچھ گوشوں کی جانب سے اس دعوی کو غیر درست قرار دیا جا رہا ہے تو حکومت کی جانب سے اپنے اعداد و شمار کی مدافعت کرتے ہوئے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ وسیع تر احاطہ اور نئے طریقہ کار کو اختیار کرنے کے بعد تناسب میں بہتری درج کی گئی ہے ۔ سابق فینانس سکریٹری مسٹر سبھاش چندرا گارگ نے تاہم حکومت کے اس دعوی کی نفی کی ہے اور یہ دعوی کیا ہے کہ جی ڈی پی اور دوسری ڈیٹا سیریز میں تضاد اور عدم یکسانیت پائی جاتی ہے ۔ مسٹر سبھاش چندرا گارگ نے ایک انگریزی روزنامہ کو تحریری انٹرویو میں کئی شبہات کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے معاشی اندازوں کی مدافعت پر کہا کہ انہیں ڈیٹا کوالیٹی پر شبہات لاحق ہیں ۔ اس کے علاوہ ملک کے اعداد و شمار کے جائزہ میں سیاسی مداخلت کے بھی اندیشے پائے جاتے ہیں۔ پالیسی کے جو اثرات ہیں وہ بھی واضح نہیں ہیں اور ہندوستان کی ترقی کے جو دوے کئے جا رہے ہیں ان کے درست ہونے پر شبہات ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کئی گوشوں کی جانب سے حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار پر اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جس ڈیٹا کو ان اعداد و شمار کیلئے حکومت کی جانب سے بنیاد بنایا گیا ہے وہ درست نہیں ہوسکتے ۔ اس میں الٹ پھر کے اندیشے موجود ہیں ۔ مسٹر سبھاش چندرا گارگ نے چند دن قبل بھی حکومت کے دعووں پر سوال کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.6 ہوسکتی ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے بعض دعووں پر بھی سوال کرتے ہوئے اس طریقہ کار کو ناقابل اعتبار قرار دیا تھا ۔