E-20 پالیسی سے چینی اور غذائی اجناس مہنگے :کانگریس

   

نئی دہلی، 21 اگست (یواین آئی) کانگریس نے حکومت کی E-20 پالیسی کو عوام دشمن اور دور اندیشی کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے کی وجہ سے چینی اور غذائی اجناس مہنگے ہو رہے ہیں، نیز گاڑیوں کے مالکان کو کم مائلیج اور گاڑیوں کی مطابقت سے جڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی E-20 پالیسی کے باعث عوام کو سڑک اور باورچی خانے ، دونوں جگہ اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے ۔ گنے اور اناج سے ایتھنول بنانے کی وجہ سے غذائی اشیاء کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 25 لاکھ ٹن چینی کے قابل گنا ایتھنول بنانے میں چلا گیا، جس کی وجہ سے گزشتہ تین مہینوں میں چینی کی قیمت 48 روپے سے بڑھ کر 67 روپے فی کلو اور گڑ کی قیمت 50 روپے سے بڑھ کر 65 روپے فی کلو ہو گئی ہے ۔ چاول اور مکئی کا آٹا بھی بالترتیب 16 اور 11 فیصد مہنگا ہوا ہے ، جبکہ مویشیوں کی خوراک کی قیمت میں 10.34 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔مسٹر رمیش نے کہا کہ E-20 کے لیے تیار نہ کی گئی گاڑیوں میں کم مائلیج اور خرابی کا خطرہ بنا ہوا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایتھنول تیار کرنے والوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے گاڑی مالکان کے پاس پٹرول کے متبادل محدود کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور 20 فیصد ایتھنول ملانے سے لاگت کم ہونے کے باوجود پٹرول کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے ۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی مسلسل E-20 کے نام پر ہونے والی بدعنوانی اور اس سے جڑے صارفین کے مفادات کے سوال اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بھی 19 اگست کو E-20 کے باعث کم مائلیج، گاڑیوں کی مطابقت، صارفین کے محدود متبادلات اور ماحولیاتی نقصان کو لے کر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت E-20 پالیسی کا فوری جائزہ لے اور عوام کو بغیر ایتھنول والے پٹرول کا متبادل فراہم کرے ۔