نئی دہلی، 5 اگست (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے اتھینول آمیزش کو فروغ دینے کے نام پر عام شہریوں پر مالی بوجھ بڑھا کر ان کا متبادل چھین لیا ہے ، جبکہ اس اسکیم کا سب سے زیادہ فائدہ اتھینول پیدا کرنے والوں کو ملا ہے ۔کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے چہارشنبہکے روز یہاں ایک بیان میں کہا کہ سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری نے دعویٰ کیا تھا کہ اتھینول آمیزش کے ذریعے ڈیزل 50 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کا متبادل 55 روپے فی لیٹر تک دستیاب کرایا جا سکے گا، لیکن قیمتوں میں ایسی کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔ اس کے برعکس ایک آزاد تجزیے کے مطابق اپریل 2023 سے مارچ 2026 کے درمیان اتھینول ملاوٹ والے ایندھن سے کم مائلیج کی بھرپائی کے لیے صارفین نے مجموعی طور پر تقریباً 88,234 کروڑ روپے اضافی خرچ کیے ۔کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر ای-20 سے مائلیج میں کمی آتی ہے تو حکومت کو اس کی بھرپائی کے لیے خردہ قیمت کم کرنی چاہیے تھی۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ نیتی آیوگ کے اتھینول روڈ میپ میں بھی ای-10 اور ای-20 ایندھن پر صارفین کو مالیاتی اور ٹیکس مراعات دینے کی سفارش کی گئی تھی، لیکن حکومت نے اس کے بجائے اتھینول پیدا کرنے والوں کو 4,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سبسڈیز منظور کر دیں۔پارٹی نے کہا کہ ای-20 پالیسی کے ذریعے حکومت نے عام متوسط طبقے کے صارفین پر اضافی ایندھن کے اخراجات کا بوجھ ڈال دیا ہے ۔
جن لوگوں نے سالہا سال کی بچت سے گاڑیاں خریدیں، انہیں اب ایندھن کے زیادہ اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ای-20 پروگرام سے اگر کسی طبقے کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے تو وہ اتھینول پیدا کرنے والوں کا ہے ، جبکہ عام صارف کو توقع کے مطابق راحت نہیں ملی۔