G-20 بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا حامل گروپ، سعودی شوریٰ کونسل کا وفد بھی موجود
G-20 ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز کا آٹھواں اجلاس انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں شروع ہوگیا ’’مضبوط پارلیمان برائے پائیدار بحالی‘‘ کے عنوان سے اجلاس کی سربراہی شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ نے کی۔ انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو، فیڈریشن کے صدر انٹرنیشنل پارلیمنٹرین ڈوارٹے پاچیکو، انڈونیشیا کے ایوان نمائندگان کی خاتون اسپیکر پوان مہارانی بھی اجلاس میں موجود تھے۔اپنی افتتاحی تقریر میں انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے مقررین کا خیرمقدم کیا اور G-20 ممالک کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا گروپ کا مقصد دنیا کی آبادی کو درپیش تمام مسائل کو حل کرنا ہے۔ اقتصادی بحالی اور خوشحال دنیا کی تشکیل کیلئے تمام ملکوں میں رابطے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔بین الپارلیمان یونین کے صدر نے ان پارلیمانی اجلاسوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اجلاسوں کا مقصد عالمی واقعات کا سامنا کرنے کیلئے G-20 ممالک کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ اس گروپ کے پاس ایک بڑی طاقت ہے جو بحرانوں کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بحرانوں کو حل کرنے کیلئے کثیر جہتی تعاون ضروری ہے اور یہی تعاون دنیا کی پائیدار ترقی اورجامع امن کے ہدف کے حصول کی طرف لے جاسکتا ہے۔ انڈونیشیا کے ایوان نمائندگان کی اسپیکر پوان مہارانی نے آٹھویں سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے G20 ممالک کے پارلیمانی سربراہان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سعودی شوریٰ کونسل کا وفد بھی اجلاس میں موجود تھا۔ اجلاس میں پائیدار ترقی کے حصول، گرین اکانومی کو تیز کرنے، خوراک اور توانائی کے تحفظ سے متعلق فوری مسائل کو حل کرنے اور دیگر اقتصادی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے سعودی شوریٰ کونسل کے وفد کی سربراہی شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل الشیخ کر رہے تھے۔شوریٰ کونسل کے ارکان میجر جنرل منصور بن سلطان الترکی، ڈاکٹر امل بنت یحییٰ الشیخ اور ڈاکٹر محمد بن سلمان، اسامہ بن حسن عارف اور ڈاکٹر امیرہ بنت احمد البلاوی بھی وفد میں شامل تھے۔