G-20 اجلاس میں چینی و روسی صدور کی شرکت

,

   

مغربی ممالک کا پوتن کا دعوت نامہ منسوخ کرنے کا مطالبہ، صدر انڈونیشیا کا بلوم برگ کو انٹرویو

جکارتہ : چین اور روس کے صدور انڈونیشیا میں ہونے والے G-20 اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دونوں ممالک کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے اس کو کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مغربی ممالک نے انڈونیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ پوتن کا دعوت نامہ منسوخ کیا جائے۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے جمعرات کو انڈونیشیا کے صدر جوکو ویڈوڈو کے بلوم برگ کو دیئے گئے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ G-20 اجلاس نومبر میں منعقد ہو گا۔انڈونیشیائی صدر جن کو اصل نام کے علاوہ جوکووی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے مطابق ’چین کے صدر شی جن پنگ آئیں گے اور پوتن نے مجھے خود بتایا ہے کہ وہ بھی آئیں گے۔‘رائٹرز کی جانب سے جب چین کی وزارت خارجہ سے اس اطلاع کے حوالے سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو وہاں سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔انڈونیشیا 20 بڑی معیشتوں کے گروپ کی سربراہی کر رہا ہے اور نومبر میں اس کا اعلیٰ سطح اجلاس جزیرہ بالی پر ہو گا۔ انڈونیشیا پر مغربی ممالک کی جانب سے دباؤ بھی ڈالا گیا ہے یوکرین پر حملے کی وجہ سے روسی صدر پوتن کا دعوت نامہ منسوخ کیا جائے جس کو روس ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیتا ہے۔جوکووی نے متحارب ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور اس کے لیے یوکرین اور روس دونوں کے دورے بھی کیے اور صدور سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد جوکووی نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ ’دونوں ممالک نے انڈونیشیا کو امن کے پْل کے طور پر قبول کیا ہے۔‘بڑے ممالک کے رہنما نومبر میں بالی ملاقات کریں گے جن میں امریکہ کے صدر بائیڈن بھی شامل ہیں جبکہ انڈونیشیا کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی دعوت دی گئی ہے۔خیال رہے روس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تب سے خراب ہیں جب سے اس نے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا ہے، امریکہ اور مغربی ممالک کھل کر یوکرین کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ روس اور امریکہ کی قیادت کے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی جاری ہے۔اسی طرح رواں امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے تائیوان کے دورے پر امریکہ اور چین کے تعلقات میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی اور چین نے جنگی مشقیں بھی شروع کیں اور معاملہ تھوڑاسا ٹھنڈا پڑتے ہی امریکی کانگریس کا ایک اور وفد تائیوان جا پہنچا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی خراب ہیں۔چین پڑوسی ملک تائیوان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے جبکہ تائیوان خود کو آزاد ملک قرار دیتا ہے۔