ایک کروڑ 35 لاکھ ووٹرس کے لیے الرٹ ، نام ووٹر لسٹ سے خارج ہونے سے بچانے کے لیے متحرک ہوجائیں
/10 اگست تک ایڈٹ آپشن کا استعمال نہیں کیا گیا تو /17 اگست کے بعد جاری ہوں گی نوٹسیں ، حکام کا انتباہ
حیدرآباد : /6 اگست (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR-2026) کی کارروائی کے دور ان الیکشن کمیشن آف انڈیا کے پورٹل سے ایک سنسنی خیز اور چونکادینے والا انکشاف سامنے آیا ہے ۔ ڈاٹا کے آن لائن ڈیجیٹلائزیشن اور میاپنگ کے دوران جملہ ایک کروڑ 35 لاکھ ووٹرس (80 لاکھ غیرمتزلزل + 55 لاکھ ناقابل جمع ) کے ریکارڈ میں شدید بے باضابطگیاں اور غلطیاں پائی گئی ہیں ۔ بالخصوص وہ ووٹرس جن کا پرانا اور نیا ریکارڈ آپس میں ایک دوسرے سے میل نہیں کھارہا ہے ۔ جب الیکشن کمیشن نے ووٹرس کا نیا ڈاٹا 2002 ء کے پرانے ووٹر لسٹ کے ریکارڈ سے ملایا تو 80 لاکھ لوگوں کی تفصیلات میں کچھ نہ کچھ فرق پایا گیا ۔ مثال کے طورپر کسی کے نام کی اسپیلینگ (Spelling) میں غلطی ہے تو کسی کے والد کا نام تھوڑا الگ لکھا ہے یا تاریخ پیدائش اور پتے میں فرق ہے ۔ ایسے لوگوں کے ووٹ ووٹر لسٹ میں شامل ہے ۔ لیکن ڈاٹا میں غلطی کی وجہ سے الیکشن کمیشن انہیں در ست (Edit) کرنے کا موقع دے رہا ہے تاکہ آگے چل کر ان کا نام فہر ست سے خارج نہ ہوجائیں ۔ اس کے علاوہ 55 لاکھ ووٹ ناقابل جمع (Non – Collectible Voters) کی فہر ست میں ہیں ۔ یہ ایسے ووٹرس ہیں جن کے فارمس جمع نہ ہوسکے یا جن کا نام لسٹ سے ہٹائے جانے کی فہرست میں ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے ۔ الیکشن کا عملہ گھر گھر سروے کرنے گیا یا فارمس تقسیم کئے تو 55 لاکھ ایسے نام سامنے آئے جن کے فارم جمع نہیں ہوئے ۔ اس سنگین صورتحال اور عوام میں پھیلنے والی بے چینی کے بعد الیکشن کمیشن نے ہنگامی اقدام کرتے ہوئے تمام بوتھ لیول آفیسرس کو اپنے آن لائن پورٹل پر غلطیوں کی درستگی کیلئے (Edit Option) کی خصوصی سہولت فراہم کردی ہے ۔ یہ آپشن /10 اگست 2026 ء تک ہی فعال رہے گا ۔ اگر /10 اگست تک ایڈٹ آپشن کے ذریعہ ان 80 لاکھ ووٹرس کے ڈاٹا کو درست نہیں کیا گیا تو /17 اگست کے بعد الیکشن کمیشن ان تمام کو باضابطہ قانونی نوٹس جاری کرے گا ۔ جس کے بعد انہیں اپنے شناختی کارڈس لے کر الیکشن دفاتر کے چکر لگانے پڑیں گے ۔ دوسر ی جانب گراؤنڈ سروے کے دوران 55 لاکھ ووٹرس کو ناقابل جمع یعنی (ASOD) غیر حاضر ، منتقل شدہ ، ڈپلیکیٹ اور متوفی کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔ سیاسی جماعتوں نے الزام لگایا کہ بی ایل اوز پر آن لائن ڈیجیٹلائزیشن کا ٹارگٹ جلد از جلد پورا کرنے کا شدید دباؤ تھا ۔ جس کے باعث فیلڈ پر جاکر مکمل چھان بین کئے بغیر ہزاروں ایسے ووٹرس کے نام بھی غیر حاضر یا لاپتہ بتادیئے گئے جو اپنے گھروں میں ہی موجود ہیں ۔ اب جو ووٹرس اپنے بی ایل اوز تک پہنچکر دستاویزات دکھارہے ہیں ان کا ڈاٹا بھی اسی ’’ایڈٹ آپشن‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ درست اور بحال کیا جارہا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں کسی بھی قسم کے ٹائپنگ یا ہجے کی غلطی کو درست کرنے کیلئے ووٹرس /10 اگست سے قبل اپنے علاقائی بی ایل اوز سے رجوع ہوں ساتھ ہی الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے بی ایل اوز کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ درستگی کیلئے پہنچنے والے تمام شہریوں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور کسی بھی قسم کی غفلت نہ برتیں تاکہ ریاست کے ایک کروڑ 35 لاکھ سے زائد متاثرہ ووٹرس کا حق رائے دہی محفوظ رہ سکے ۔ 2/y