آئندہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے نظریات آشکار ہوں گے

   

ریاستی و قومی سطح پر مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد ، اقتدار کا حصول اصل مقصد
حیدرآباد۔25 جنوری(سیاست نیوز) ملک میں آئندہ اسمبلی و عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے نظریات کا پردہ فاش ہوجائے گا اور وہ خود اپنے اصولوں کی دھجیاں اڑانے والی ثابت ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ بیشتر سیاسی جماعتو ںکی جانب سے ریاستی سطح پر اتحاد اور قومی سطح پر مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکانات کا اظہار کیا جا رہاہے۔تلنگانہ میں بائیں بازو جماعتیں بھارت راشٹر سمیتی کے ساتھ اتحاد کررہی ہیں اور قومی سطح پر بائیں بازو جماعتیں کانگریس سے اتحاد برقرار رکھتے ہوئے یوپی اے کا حصہ بنی رہیں گی ‘ جبکہ بھارت راشٹر سمیتی نے قومی سطح پر کانگریس کے ساتھ نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھارت راشٹر سمیتی کے جلسوں میں عام آدمی پارٹی ‘ جنتادل یونائیٹڈ‘ ڈی ایم کے ‘ بائیں بازو کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ قومی سطح پر سیاسی جماعتو ںکے اتحاد کی تشکیل کی سمت پیشرفت کو تیز کر چکے ہیں لیکن ان جلسوں میں شرکت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع نہیں دی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ بی آر ایس کے جلسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ بائیں بازو سیاسی جماعتوں کے قومی قائدین نے واضح کردیا ہے کہ وہ قومی سطح پر کانگریس کے ساتھ ہیں اور کہا جار ہاہے کہ آندھراپردیش میں بائیں بازوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے تلگودیشم پارٹی کے ساتھ اتحاد کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ اسی طرح تلگو فلم اسٹار پون کلیان کی سیاسی جماعت جنا سینا پارٹی جو کہ فی الحال بھارتیہ جنتا پارٹی کی حلیف ہے وہ اب تلگودیشم پارٹی کے ساتھ اتحاد کا جائزہ لے رہی ہے اورکہا جارہا آندھراپردیش میں تلگو دیشم اور جنا سینا کے درمیان اتحاد ہوگا لیکن دونوں ہی سیاسی جماعتیں قومی سطح پر کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں رہیں گی لیکن باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سابق چیف منسٹر آندھرا پردیش و سربراہ تلگو دیشم پارٹی مسٹر این چندرابابونائیڈو جنا سینا کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کے لئے بھی کوشاں ہیں ۔ اس کے علاوہ جنا سینا پارٹی اور تلگودیشم کے درمیان ہونے والا اتحاد آندھرا پردیش تک محدود رہے گا یا تلنگانہ میں بھی دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد ہوگا اس پر اب تک کوئی وضاحت نہیں ہوئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اس طرح کے اتحاد عوام پر یہ واضح کردیں گے کہ ان سیاسی جماعتوں کا اپنا کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ وہ اقتدار کے حصول کے لئے کسی کے ساتھ ہی اتحاد کرسکتی ہیں۔م