حیدرآباد۔ شہر کے انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز تصور کئے جانے والے علاقہ مادھاپور‘ جوبلی ہلز‘ گچی باؤلی‘ شیر لنگم پلی کے علاوہ اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں رائے دہی پر ورک فرم ہوم کلچر کے منفی اثرات دیکھے گئے جہاں پر مجموعی اعتبار سے ہونے والی رائے دہی کے فیصد میں کافی زیادہ کم ہوئی ہے۔ شہر کے ان بلدی حلقہ جات کے علاوہ شیخ پیٹ و دیگر علاقوں میں جہاں ملک کے دیگر علاقوں سے شہر حیدرآباد میں رہتے ہوئے آئی ٹی کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین نے اپنے ووٹوں کا اندراج یہاں کروایا تھا وہ گھر سے کام کاج کے کلچر کے فروغ کے سبب اپنے آبائی مقامات پر روانہ ہوچکے ہیں۔ مقامی سیاسی قائدین و امیدواروں کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد کے ان علاقو ںمیں بیرون ریاست نوجوان آئی ٹی ملازمین کی بڑی تعداد رہتی ہے جو کہ آئی ٹی کمپنیو ںمیں لاک ڈاؤن جاری رہنے اور گھروں سے کام کاج کے سبب اپنے آبائی مقامات کو روانہ ہوچکے ہیں وہ انتخابات کے سلسلہ میںہونے والی رائے دہی میں حصہ نہیں لے پائے ہیں۔