ثنا غزالہ، لیکچرر
نرمل 3 نومبر ۔ پانی قدرت کی ایک بیش بہا نعمت اور زندگی کی بقا کا بنیادی ذریعہ ہے۔ تاہم صنعتی ترقی، شہری آبادی میں اضافے اور انسانی سرگرمیوں کے باعث آبی آلودگی ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ بالخصوص صنعتی فضلے میں موجود بھاری دھاتیں انسانی صحت، آبی حیات اور ماحول کے لیے شدید خطرات کا باعث ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے گندے پانی سے بھاری دھاتوں کے اخراج کے مؤثر، کم لاگت اور ماحول دوست طریقوں کی تلاش ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان طریقوں میں جذب کاری (Adsorption) ایک اہم اور امید افزا تکنیک ہے۔صنعتی سرگرمیوں، کان کنی، بیٹریوں کی تیاری اور دھاتوں کی صفائی کے دوران سیسہ، کیڈمیم، کرومیم، پارہ، تانبا اور نکل جیسی بھاری دھاتیں گندے پانی میں شامل ہو سکتی ہیں۔ ان دھاتوں کی بعض مقداریں انسانی جسم میں جمع ہو کر مختلف بیماریوں اور صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی طرح یہ آبی جانداروں کی نشوونما، افزائش اور قدرتی نظام کے توازن کو بھی متاثر کرتی ہیں۔بھاری دھاتوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ قدرتی ماحول میں آسانی سے تحلیل یا ختم نہیں ہوتیں، بلکہ طویل عرصے تک پانی اور مٹی میں موجود رہ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا بروقت اخراج انتہائی ضروری ہے۔جذب کاری ایک ایسا عمل ہے جس میں پانی میں موجود آلودہ دھاتی آئن مخصوص ٹھوس مادّوں کی سطح پر جمع ہو جاتے ہیں۔ ان مادّوں کو جذب کنندگان (Adsorbents) کہا جاتا ہے۔ اس طریقے کی سادگی، نسبتاً کم لاگت اور مختلف اقسام کے مواد کے استعمال کی گنجائش اسے گندے پانی کی صفائی کے لیے ایک مفید تکنیک بناتی ہے۔جذب کاری کے لیے فعال کاربن، حیاتیاتی کاربن (Biochar)، قدرتی معدنیات اور زرعی فضلے سے تیار کردہ مواد استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ چاول کے چھلکے، مالٹے اور کیلے کے چھلکے ایسے قدرتی وسائل ہیں جن سے کم لاگت والے جذب کنندگان تیار کرنے کے امکانات موجود ہیں۔