حکومت سے مذاکرات میں پیشرفت نہیں، جے اے سی نے 32 مطالبات پیش کئے
حیدرآباد ۔16۔ اپریل (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے باوجود آر ٹی سی ملازمین 22 اپریل سے ریاست گیر ہڑتال کے فیصلہ پر قائم ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے ملازمین کی یونینوں سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے مطالبات پر حکومت سے بات چیت کریں۔ آر ٹی سی ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 32 مطالبات پیش کرتے ہوئے 22 اپریل سے ریاست گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔ جے اے سی نے 13 مارچ کو ہڑتال کی نوٹس دی تھی لیکن حکومت اور آر ٹی سی انتظامیہ کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا جس پر ہڑتال کی برقراری کا فیصلہ کیا گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری تھامس ریڈی نے بتایا کہ حکومت اور آر ٹی سی انتظامیہ کو 32 مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی گئی ہے ۔ اہم مطالبات میں آر ٹی سی کا حکومت میں انضمام ، لیبر یونین کے انتخابات اور سرکاری ملازمین کے مساوی تنخواہ اور دیگر مراعات شامل ہیں۔ ملازمین کی جانب سے تنخواہوں پر نظرثانی اور پراویڈنٹ فنڈ اور دیگر بقایہ جات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ جے اے سی نے پے ریویژن کمیشن کی تشکیل کی مانگ کی ہے ۔ ہڑتال کے نتیجہ میں ریاست میں ٹرانسپورٹ سسٹم متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ 6000 سے زائد بسیں سڑکوں سے ہٹالی جائیں گی اور مسافرین کو دشواریاں ہوسکتی ہیں۔ اسی دوران وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے واضح کیا کہ جو مطالبات حکومت کے اختیار میں ہے ں، ان پر مذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے زیر التواء مہنگائی بھتہ جاری کردیا ہے اور مہنگی بھتہ میں 2.1 فیصد کا اضافہ کیا گیا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کی نوٹس دی تھی تاہم حکومت کی جانب سے تین آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کے بعد ہڑتال کے فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔1/k/a/y