دو سال تک یونین کے انتخابات منعقد نہ کرنے کا فیصلہ غیر جمہوری
حیدرآباد۔/14 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر اشواتھاما ریڈی نے کہا کہ ہڑتال کے اختتام کے باوجود آر ٹی سی کے ملازمین مطمئن نہیں ہیں۔ ڈپوز میں 2 سال تک یونین کے انتخابات منعقد نہ کرنے کیلئے ملازمین سے دستخطوں کا حصول افسوسناک ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اشواتھاما ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر نے خاتون ملازمین کی ڈیوٹی سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں لیکن عہدیدار اس پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ رات 8 بجے کے بعد بھی خواتین کو ڈیوٹی کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ملک میں ٹریڈ یونین کا ہونا ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ یونین کے انتخابات منعقد کرے۔ انہوں نے یونین کی موجودگی کے بارے میں ملازمین سے خفیہ رائے دہی کے ذریعہ رائے حاصل کرنے اور اکثریتی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی ویلفیر کونسل ارکان کی تجاویز کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ویلفیر کونسل ارکان کی قبول کردہ تجاویز کو منظر عام پر لائیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلور میں 7000 بسیں ہیں جبکہ حیدرآباد میں 3500 بسوں میں 1000 بسوں کو منسوخ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بسوں کی کٹوتی سے عوام کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اشواتھاما ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر نے آر ٹی سی ملازمین کے حق میں جو اعلانات کئے تھے وہ محض کاغذی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے دوران بعض عہدیدار بے قاعدگیوں میں مبتلاء ہوئے ہیں لہذا ان کے خلاف تحقیقات کرتے ہوئے کارروائی کی جانی چاہیئے۔ اشواتھاما ریڈی نے کہا کہ جمہوریت میں ورکرس یونین کی موجودگی ناگزیر ہے اور حکومت ورکرس کو یونین کے حق سے محروم نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے اختتام کے بعد ملازمین کو مختلف شرائط کے حق میں دستخط کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔