آسام میں ہوٹلس میں بیف پر پابندی کی مذمت

,

   

مختلف اپوزیشن قائدین کا شدید ردعمل ‘ فیصلہ سے کشیدگی میں اضافہ کا اندیشہ
گوہاٹی :آسام حکومت نے بیف (گائے یا بھینس کا گوشت) کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما نے کہا ہے کہ اب کسی بھی ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں بیف نہیں ملے گا اور ساتھ ہی اسے عوامی تقریب یا کسی عوامی جگہ پر بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دہلی میں آسام حکومت کی کابینہ کی میٹنگ ہوئی جس میں کئی وزراء نے ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعہ حصہ لیا۔ اس دوران ریاست میں بیف پر مکمل پابندی لگانے سے متعلق سخت قدم اٹھایا گیا۔ٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ہم آسام میں 3 سال قبل گئو کشی روکنے کیلئے قانون لائے تھے۔ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آسام میں کسی بھی ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں بیف نہیں رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی کسی عوامی تقریب یا عوامی جگہ پر بھی بیف کا استعمال نہیں ہوگا۔ پہلے یہ فیصلہ مندروں کے آس پاس تک ہی محدود کر رکھا تھا اب اسے پوری ریاست میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آسام حکومت نے بیف پر پابندی لگانے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب آسام میں بیف کو لے کر سیاسی گھمسان جاری ہے۔ حالیہ اختتام پذیر ضمنی اسمبلی انتخاب میں بی جے پی پر کانگریس رکن پارلیمنٹ رقیب الحسن نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی نے ووٹرز کو بیف پارٹی دے کر جیت حاصل کی ہے۔ ان الزامات کو وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے خارج کر دیا تھا۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر کانگریس لکھ کر دے تو میں بیف پر پابندی عائد کرنے کیلئے تیار ہوں۔جے ڈی یو ، کانگریس اور اے آئی یو ڈی ایف نے آسام حکومت کے اس فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ جے ڈی یو نے کہا کہ اس فیصلے سے سماج میں تناؤ بڑھے گا۔مرکز اور بہار میں بی جے پی کے حلیف جے ڈی یو کے رہنما کے سی تیاگی نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر کسی کو کھانے پینے کی آزادی دیتا ہے۔ اس فیصلہ سے معاشرے میں کشیدگی پھیلے گی جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔کانگریس لیڈر راشد علوی نے کہا کہ پورے ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگنی چاہیے۔ لیکن آسام کے وزیر اعلیٰ کو اب یہ کیوں یاد آیا؟ کیا بی جے پی گوا اور شمال مشرق سمیت تمام ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگائے گی جہاں وہ اقتدار میں ہیں؟دوسری طرف کانگریس لیڈر گورو گوگوئی نے ریاست میں بیف پر پابندی پر کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ جھارکھنڈ میں بی جے پی کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کرنے کے بعد اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آسام کی ایک اور پارٹی اے آئی یو ڈی ایف کے ایم ایل اے ڈاکٹر (حافظ) رفیق الاسلام نے کہا کہ کابینہ کو یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ لوگ کیا کھائیں گے یا پہنیں گے۔ بی جے پی گوا میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں لگا سکتی، شمال مشرقی ریاستوں میں بیف پر پابندی نہیں لگا سکتی، تو آسام میں کیوں؟