آمدنی میں اضافہ کرنے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ !

   

تلنگانہ کے ’ سرویس سیکٹر ‘ میں 18 فیصد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز
اے ٹی ایم سے رقم نکالنا ، کیابس سے سفر کرنا ، بنکوں میں لاکر رکھنا وغیرہ پر ٹیکس عائد ہوگا ، حکومت کو رپورٹ پیش
حیدرآباد ۔ 16 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاست پر قرض کا بوجھ بڑھ جانے مرکز سے توقع کے مطابق گرانٹ ان ایڈ ، مختلف بینکوں میں ریاست کی مناسب حصہ داری کے فنڈز نہ ملنے اور فلاحی اسکیمات کے فنڈز کو گھٹا نے اور حصول قرض پر تحدیدات کے بعد تلنگانہ حکومت نے ریاست کے ذرائع آمدنی میں اضافہ کرنے مزید وسائل کی نشاندہی کرنے کا محکمہ کمرشیل ٹیکس کو حکم دیا ہے جس کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ کمرشیل ٹیکس نے ’ سرویس سیکٹر ‘ میں ٹیکس ریونیو بڑھانے کی نشاندہی کی ہے ۔ گذشتہ مالیاتی سال ( 2022-23 ) ریاست کا ٹیکس ریونیو 72,564 کروڑ اشیاء پر جی ایس ٹی کی شکل میں 22,940 کروڑ وصول کرکے سرفہرست مقام حاصل کیا تھا ۔ خدمات کے شعبے سے ہونے والی آمدنی ( 14,178 کروڑ ) کے ساتھ دوسرا مقام حاصل کیا تھا ۔ محکمہ کمرشیل ٹیکس ماہرین نے ٹیکس آمدنی میں اضافہ کرنے تمام شعبوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اس شعبہ پر جتنی توجہ دی جائے گی اتنی ہی زیادہ آمدنی ہوگی ۔ تلنگانہ میں جی ایس ٹی یا ویاٹ ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان کی جملہ تعداد 4.92 لاکھ ہے ۔ ان میں سے 3 لاکھ اشیاء پر جی ایس ٹی ادا کرتے ہیں دیڑھ لاکھ لوگ سرویس سیکٹر میں ہیں ۔ باقی گڈس اینڈ سرویس سیکٹر میں مشترکہ کاروبار کر رہے ہیں ۔ سرویس سیکٹر کے ذرائع میں خاطر خواہ آمدنی نہیں ہورہی ہے ۔ اس میں اضافہ کرنے کیا کرنا ہوگا ‘کہاں غفلت اور کوتاہیاں ہورہی ہیں اس کا مطالعہ کرنے کے بعد محکمہ کمرشیل ٹیکس ماہرین پر مشتمل کمیٹی نے رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے ۔ سرویس سیکٹر میں زیادہ جی ایس ٹی ادا کرنے والی ٹاپ 10 صنعتوں کی فہرست تیار کی گئی ہے ۔ ان میں کچھ پر توجہ دینے سے آمدنی میں اضافہ ہوگا ۔ چند دیگر سرویس کمپنیوں کی آمدنی بھی متاثر کن نہیں ہے ۔ اس میں بھی اضافہ کی ضرورت ہے ۔ مثال کے طور پر انسانی وسائل ( افرادی قوت ) کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے مکمل جی ایس ٹی وصول نہیں ہورہا ہے ان کمپنیوں کو اپنی آمدنی پر 18 فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا ہوگا ۔ سرکاری ادارے مختلف طریقوں سے ملازمین کے تقررات کررہے ہیں ۔ سرکاری محکمہ جات کیلئے اس نظام میں پرائیوٹ کمپنیاں ملازمین کی خدمات فراہم کرکے آمدنی حاصل کررہی ہیں ۔ اس طرح کی خدمات انجام دینے والی ہر کمپنی کی آئی ٹی ریٹرن ، بینک اکاونٹ کی تفصیلات اور جی ایس ٹی این نمبرس کو جمع کیا جانا چاہئے اور ان کا موازنہ کیا جانا چاہئے ۔ اس بات کی جانچ کی جانی چاہئے کہ وہ جو کاروبار کررہے ہیں اس پر جی ایس ٹی پوری کررہے ہیں یا نہیں ۔ ماہرین نے تجویز پیش کی کہ ان خدمات پر ٹیکس لگایا جاسکتا ہے ۔ مثلا بینک میں کلائینٹس کو فراہم کردہ لاکرس ، انٹرنیٹ بینکنگ خدمات استعمال کرنے والوں ، بینک میں ڈیمانڈ ڈرافٹ لینے والوں پر ، غیر ملکی کرنسی ایکسچینج فرموں پر بینک گیارنٹی کی قیمت پر ، سرمایہ کاری کی مشاورتی فرموں پر ، فنڈ مینجمنٹ فرمس پر اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے کی خدمات پر مختلف ایجنسیوں ، اکاونٹس کی فیس دیگر خدمات پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرکے ریاست کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ ٹیکسی اور کیاب کی خدمات سے آمدنی میں اضافہ ہونا چاہئے ۔ محکمہ ٹرانسپورٹ سے رجسٹریشن تفصیلات حاصل کریں اور جی ایس ٹی کی وصولی پر توجہ دی جائے ۔ آن لائن ٹکٹ بکنگ کی خدمات والے پورٹلس پر ٹیکس کی مناسب وصولی کیلئے ایکشن پلان تیار کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے ۔۔ ن