آندھرا پردیش میں الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ یونٹ کیلئے ٹیسلا کو ترغیبات کی پیشکش

   

حیدرآباد۔/23 فروری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش نے ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے مینوفیکچرنگ یونٹ کے حصول کیلئے مساعی شروع کردی ہے۔ ہندوستان کی کئی ریاستیں ایلون مسک کو الیکٹرک وہیکلس مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کیلئے ترغیب دینے میں مصروف ہیں اور اس دوڑ میں آندھرا پردیش بھی شامل ہوچکا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آندھرا پردیش کے اکنامک ڈیولپمنٹ بورڈ نے ٹیسلا کیلئے اراضی کی فراہمی اور بندرگاہ سے مربوط کرنے کے اقدامات کئے ہیں تاکہ آندھرا پردیش کے جنوبی حصہ میں ایلون مسک کی کمپنی قائم کی جاسکے۔ تلگودیشم حکومت نے اکٹوبر 2004 میں مساعی کا آغاز کیا تھا جب وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی لوکیش نے ٹیسلا کے چیف فینانشیل آفیسر وائیبھو تنیجا سے امریکہ میں ملاقات کی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے امریکہ میں ملاقات کے بعد ٹیسلا نے ہندوستان میں ملازمتوں کی فراہمی کا آغاز کیا جس کے بعد سے آندھرا پردیش نے اپنی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کردی ہے۔ حکومت کی جانب سے ٹیسلا کمپنی کو قیمتی اراضی کی پیشکش کی جارہی ہے اور گاڑیوں کی برآمدات کیلئے بندرگاہ کی سہولت بھی حاصل رہے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ریاستیں ٹیسلا مینو فیکچرنگ یونٹ کیلئے مختلف ترغیبات کی پیشکش کررہی ہیں۔ آندھرا پردیش کو ان سرگرمیوں میں سبقت اس لئے بھی حاصل ہے کیونکہ یہاں بندرگاہیں موجود ہیں۔ آندھرا پردیش حکومت ریاست کے جنوبی حصہ میں کار مینوفیکچرنگ یونٹ کی منصوبہ بندی کررہی ہے تاکہ علاقہ کی ترقی ہو اور مقامی افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے جس علاقہ کی نشاندہی کی ہے وہاں آٹو موبائیل کمپنیوں کے قیام کیلئے بہتر ماحول ہے اور بیاٹری مینوفیکچرنگ یونٹس کی گنجائش موجود ہے۔ ہندوستان میں الیکٹرانک گاڑیوں کی مانگ جنوبی ہند کی ریاستوں میں زیادہ دیکھی جارہی ہے لہذا آندھرا پردیش نے اپنی دعویداری کو مضبوط کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھا۔1
الیکٹرک وہیکلس کی فروخت کے بارے میں اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ 60 فیصد الیکٹرک گاڑیاں ملک کی چار جنوبی ریاستوں کیرالا، ٹاملناڈو، تلنگانہ اور کرناٹک میں فروخت کی جارہی ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب آندھرا پردیش حکومت نے کار مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو مدعو کیا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے 2017 میں ٹیسلا اور ایلون مسک سے یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے تھے جس کے تحت 4 میگا واٹ کے 2 سولار اِنرجی اسٹوریج یونٹس کے رائلسیما میں قیام سے اتفاق کیا گیا تھا۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی کی زیر قیادت وائی ایس آر سی پی حکومت نے 2022 میں آندھرا پردیش میں الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ پلانٹ کی مساعی کی تھی۔ ایلون مسک نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے اس سلسلہ میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کا اشارہ دیا تھا۔ 2024 کے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ایلون مسک سے ملاقات کے بعد ریاستوں کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہوگیا۔ وائی ایس آر کانگریس حکومت نے اپریل 2024 میں ٹیسلا کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کار مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کی خواہش کی۔ ایلون مسک کی نظر ہندوستانی مارکٹ پر ہے لیکن الیکٹرک وہیکل کاروں پر بھاری امپورٹ ڈیوٹی ایک اہم مسئلہ دکھائی دے رہی ہے۔1