آندھرا پردیش کے حاجیوں کو فی کس 80 ہزار روپئے کی حکومتی امداد

   

تلنگانہ میں عازمین حج کیلئے کوئی اسکیم نہیں۔ ائرپورٹ پر سب سے زیادہ یوزر ڈیولپمنٹ چارجس کی وصولی
حیدرآباد 19 مئی (سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم سے تلنگانہ کے مسلمانوں کے فائدہ سے زیادہ نقصان ہوا اور اگر دونوں ریاستوں کے محکمہ اقلیتی بہبود اور اقلیتی ادارہ جات کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا جائے تو آندھراپردیش کے محکمہ اقلیتی بہبود کے ادارۂ جات کی کارکردگی تلنگانہ اداروں سے کافی بہتر ہے۔حکومت آندھراپردیش نے ریاستی حج کمیٹی سے منتخب 1740عازمین حج کو جو وجئے واڑہ سے حج بیت اللہ کیلئے روانہ ہورہے ہیں 80ہزار روپئے فی کس ادا کردیئے ہیں۔حکومت نے ریاست کے عازمین حج کیلئے اسکیم ’سفری خرچ‘ برائے عازمین حج کے تحت مجموعی اعتبار سے تمام عازمین کو 80 ہزار روپئے فی کس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ حج کمیٹی یا حکومت تلنگانہ سے ریاست کے عازمین حج کیلئے ایسی کوئی اسکیم نہیں ہے حالانکہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی تعداد آندھراپردیش سے زیادہ ہے اس کے باوجود حکومت کی نظر میں مسلمانوں کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہے ۔ حیدرآباد سے روانہ ہونے والی عازمین کیلئے سفری اخراجات کیلئے حج کمیٹی نے جملہ 3لاکھ 5ہزار 173 روپئے وصول کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ پڑوسی آندھراپردیش کے وجئے واڑہ ائیر پورٹ سے جانے والے عازمین سے جملہ 3لاکھ 88ہزار580 روپئے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حج کمیٹی کے فیصلہ کے ساتھ ہی حکومت آندھراپردیش نے وجئے واڑہ سے روانہ ہونے والے 1740عازمین حج کیلئے اسکیم میں ترمیم کرکے انہیں 80ہزار روپئے کی راحت فراہم کرنے کا اعلان کیا اور تمام عازمین حج کے 80ہزار روپئے حکومت نے ادا کردیئے جبکہ آندھراپردیش کے وہ عازمین جو حیدرآباد سے جائیں گے انہیں اس اسکیم کا حصہ نہیں بنایا گیا کیونکہ ان سے جو رقم وصول کی جا رہی ہے وہ وجئے واڑہ کے مقابلہ میں کم ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست کے عازمین کیلئے ایسی کسی اسکیم کا اعلان نہیں کیا اور نہ گذشتہ برسوں میں اس طرح کا کوئی فائدہ پہنچایا گیا بلکہ ملک بھر میں عازمین سے ائیر پورٹ پر وصولی جانے والی یوزر ڈیولپمنٹ فیس سب سے زیادہ حیدرآباد میں وصول کرنے کی شکایت ملتی رہی ہیں اور حکومت نے عازمین کو UDF سے مستثنیٰ قرار دینے کے متعدد مرتبہ وعدے کئے لیکن اب تک اس پر عمل نہیں ہوا۔ حکومت آندھراپردیش سے ریاست کے جملہ 1788 عازمین میں 1740 عازمین کو 80ہزار روپئے بینک کھاتوں میں منتقل کرنے اقدامات اور سالانہ اس اسکیم پر مؤثر عمل سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت آندھراپردیش کس طرح محکمہ اقلیتی بہبود کو کارکرد بنائے ہوئے اسکیمات پر عمل کو یقینی بنارہی ہے اور تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس اپنے ہی محکمہ میں جاری بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے خاتمہ یا ان کا کم ازکم جائزہ لینے کا بھی وقت نہیں ہے ۔ ریاست کے عازمین کیلئے حج کمیٹی کے پاس کوئی بجٹ یا اسکیم نہیں ہے لیکن چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے دفتر کیلئے 2لاکھ کا دروازہ‘ 3لاکھ کے فرنیچر‘ ایک لاکھ کے باتھ روم کیلئے پیسے ہیں۔م