بازآبادکاری مراکز کا قیام ، غذا اور پانی کی سربراہی کی ہدایت
چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کے احکامات
حیدرآباد۔ 5 اگست (سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں شدید بارش کے سبب سیلاب سے متاثرہ افراد کو کسی بھی نوعیت کی مشکلات پیش نہ آنے کیلئے موثر انداز میں راحت کاری و امدادی اقدامات کرنے کا چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے عہدیداروں کو حکم دیا ہے اور کہا کہ متاثرین کو غذائی پیاکٹس، پینے کے پانی کی فراہمی و اشیائے ضروریہ فوری طور پر فراہم کریں بلکہ متاثرین کو معیاری غذا فراہم کرنے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی بھی عہدیداروں کو چیف منسٹر نے ہدایات دی ہیں۔ جگن موہن ریڈی جوکہ اپنے افراد خاندان کے ساتھ اسرائیل کے نجی دورہ پر ہیں، ریاست کے دونوں مغربی و مشرقی گوداوری اضلاع کے علاوہ دیگر مقامات پر سیلاب کی پائی جانے والی صورتحال سے عہدیداروں کے ذریعہ واقفیت حاصل کی اور ٹیلی کانفرنس کے ذریعہ انجام دیئے جانے والے راحت کاری و امدادی اقدامات سے واقفیت حاصل کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ شدید سیلاب کی صورتحال سے جب کا تب اندازہ لگائے ہوئے فوری طور پر احتیاطی اقدامات کئے جانے چاہئیں اور سیلاب کے بہاؤ میں کمی ہوکر عام نوعیت کے حالات بحال ہونے تک راحت و امدادی اقدامات کرنے کی بھی ضروری ہدایات دیں۔ اب تک ہی مختلف مقامات پر 75 بازآبادکاری مراکز قائم کئے گئے اور ان مراکز میں فی الوقت زائد از 8500 افراد کو رہائشی و دیگر سہولتیں فراہم کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف مشرقی گوداوری ضلع میں ہی 167 مواضعات میں سیلاب کا پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے برقی سربراہی مکمل طور پر منقطع ہوچکی ہے، لیکن ان علاقوں میں متبادل برقی سربراہی کے اقدامات کرتے ہوئے جنریٹرس کی تنصیب عمل میں لائی گئی۔ علاوہ ازیں دونوں گوداوری اضلاع میں پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو دیگر محفوظ مقامات کو منتقل کرنے کیلئے حکومت 100 کشتیوں سے استفادہ کیا جارہا ہے بلکہ مرکزی و ریاستی حکومتیں آفات سماوی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تشکیل دی گئی ٹیموں میں شامل جملہ زائد از 500 افراد راحت کاری و بازآبادکاری اقدامات میں مصروف ہیں۔