آکسیجن کانسینٹریٹرس کی مانگ، دواخانوں میں بستر خالی نہیں

   

حیدرآباد : تلنگانہ میں کوویڈ۔19 کیسیس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور اس وائرس سے متاثر ہونے والے ہزاروں مریضوں میں اس کی شدید علامتیں پائی جارہی ہیں جیسے ڈیوائسیس کی خریدی کیلئے 45 تا 50 ہزار روپئے خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ دواخانوں میں بستر خالی نہیں ہیں پوری طرح بھر گئے ہیں۔ یہ ہائی ینڈ ڈیوائسیس، جس کا اب رواج ہے، 5 تا 20 لیٹر کپاسٹی کے دو سلینڈرس کے ساتھ ہوتے ہیں اور اطراف سے آکسیجن کو ہائی۔ فلو آکسجن میں تبدیل کرتے ہیں تاکہ ایک میڈیکل ماسک سے گذر سکے۔ اسے فروخت کرنے والی کمپنیوں کے مطابق یہ ڈیوائسیس 90% SP U2 سطح تک میٹین کرسکتے ہیں۔ ایک سپلائر کے رانا نے کہا کہ ’’ہم نے کوویڈ۔19 کی پہلی لہر کے دوران اس طرح کے 15 تا 30 یونٹس فروخت کئے تھے، اس وقت اس کے بارے میں زیادہ بیداری نہیں تھی لیکن اب مجھے روزانہ کم از کم 100 کالس موصول ہورہے ہیں لیکن اب ہم ایک یونٹ بھی فروخت کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ اسٹاکس خالی ہیں‘‘۔ ایک اور ڈسٹریبیوٹر کے اگروال نے کہا کہ ’’خود مینوفکچرنگ کمپنی نے ہمیں کوئی اسٹاک نہیں بھیجا ہے۔ لوگ آکسیجن کانسینٹریٹرس چاہتے ہیں کیونکہ ماڈریٹ کیسیس کو ہاسپٹلس گئے بغیر ان ڈیوائسیس کا استعمال کرتے ہوئے آسانی سے نمٹا جاسکتا ہے‘‘۔ یہ ڈیوائسیس کا اب بہت چلن ہے کیونکہ آکسیجن سلینڈرس مشکل ہوگئے ہیں اور اس کے ہر ریفل کیلئے ہزاروں روپئے کی ضرورت ہوتی ہے۔