ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
بالآخر وہی ہوا جو اسلام شمن طاقتیں چاہتی تھیں۔ ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید کردیا گیا ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای ایک طویل عرصہ سے ایران کے رہبر اعلی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور ساری دنیا میں وہ باطل طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہونے والوں کیلئے ایک جدبہ اور ایک مثال بن کر ابھرے تھے ۔ 86 سال کی عمر میں انہوں نے جس عزم و حوصلے کے ساتھ اور جس ہمت اور پامردی کے ساتھ باطل طاقتوں کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا وہ ساری دنیا کیلئے ایک مثال سے کم نہیں ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے رہبر اعلی تو تھے ہی ساتھ وہی ساری دنیا کیلئے بھی ایک مثال بن گئے ہیں جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل جیسی سوپر پاور طاقتوں کے دباؤ کو تسلیم کرنے سے لمحہ آخر تک انکار کرتے ہوئے حسینی کردار کو عملی شکل میں پیش کیا ہے اور ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کو ساری دنیا کیلئے مشعل راہ کہی جاسکتی ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئی برسوں سے کوشش کی جا رہی تھی کہ ایران کی مذہبی قیادت کو ختم کیا جائے اور اس کیلئے سب سے بڑا اور اہم نشانہ آیت اللہ علی خامنہ ای ہی تھے اور اپنے مقاصد میں یزیدی طاقتیں بظاہر تو کامیاب ہوگئی ہیں لیکن آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت میں حسینی کردار کی مثال دنیا بھر کیلئے روشن ہوگئی ہے ۔ ایران کو اسلامی روایات کے مطابق ڈھالنے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی طویل خدمات رہی ہیں اور وہ ایران اور اس کے عوام کیلئے سب سے عزیز ہستی رہے تھے ۔ امریکہ اور اسرائیل انہیں اپنے راستے سے ہٹانے میں تو کامیاب ضرور ہوگئے ہیں لیکن جو جذبہ انہوں نے ساری دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس کو ختم کرنے میں دنیا کی شائد ہی کوئی طاقت کامیاب ہو پائے ۔ اپنے ضعیف العمری کے باوجود انہوں نے جس عزم و حوصلے کی مثال قائم کی ہے اس کی نظیر دنیا بھر میں ملنی مشکل ہے ۔ ان کے خاتمہ سے ایران کے ایک مثالی دور کا خاتمہ ہوا ہے اور ساری دنیا کیلئے ایک پیام بھی ملا ہے کہ باطل چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو حسینی کردار اس کے سامنے کبھی بھی سرنگوں نہیں ہوسکتا ۔
آیت اللہ علی خامنہ ای ابتداء ہی سے اسلامی انقلاب کے پاسدار رہے تھے ۔ انہوں نے ایران میں رضاء شاہ پہلوی کے خلاف جدوجہد میں بھی حصہ لیا تھا ۔ جس وقت آیت اللہ خمینی فرانس سے ایران واپس ہوئے تھے ان کا والہانہ استقبال کرنے والوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہی سب سے آگے رہے تھے ۔ آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ایران کے رہبر انقلاب کی ذمہ داری علی خامنہ ای کو سونپی گئی اور انہوں نے پوری دیانتداری اور ذمہ داری کے ساتھ اسے پورا بھی کیا اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس کے پاسدار رہے ہیں۔ ان کا دور ایران میں اسلامی روایات کو فروغ دینے کا دور بھی کہا جاسکتا ہے ۔ جو انقلاب آیت اللہ خمینی نے برپا کیا تھا اس کو پورے جذبہ اور شدت کے ساتھ آگے بڑھانے میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ ان کی موت ساری دنیا کے مسلمانوں کیلئے ایک بڑا نقصان اور سانحہ عظیم سے کم نہیں ہے ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر بھلے ہی صیہونی اور یزیدی طاقتوں کی جانب سے خوشی منائی جا رہی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ حسینی کردار دنیا کی بڑی سے بڑی یزیدی طاقت کے سامنے کبھی بھی سرنگوں نہیں ہوسکتا ۔ وہ یزیدی طاقتوں سے ہمیشہ ٹکرایا ہے اور صبح قیامت تک ٹکراتا ہی رہے گا ۔ حسینی کردار کبھی بھی یزیدی طاقتوں کی برتری یا بالادستی کو قبول نہیں کرسکتا ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی موت سے ساری دنیا کو یہی پیام دیا ہے اور یہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔
آج دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل بھلے ہی کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں لیکن ان کے سامنے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہئیں ۔ زندگی کی آخری سانس تک ان باطل طاقتوں کے آگے سینہ سپر ہونا ہی اصل حسینی کردار ہے اور اسی کو اختیار کرنے کی ساری دنیا کے مسلمانوں کو ضرورت ہے ۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو کسی مسلکی تعصب یا تنگ نظری سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ان کی موت نے دنیا کو جو پیام دیا ہے اس کو وسیع الذہنی کے ساتھ قبول کرنے اور اسے اختیار کرتے ہوئے باطل طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہونے کا عزم مصمم کرنے کی ضرورت ہے ۔