نئی دہلی : ملک کی صحت کے شعبہ کی اہم اسکیم ‘آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا’ (اے بی پی ایم- جے اے وائی) کے تحت 36.9 کروڑ سے زیادہ آیوشمان کارڈ بنائے گئے ہیں۔ صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے منظر نامے کو تبدیل کرنے اور صحت کی دیکھ بھال پر لوگوں کے ذاتی اخراجات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اے پی پی ایم- جے اے وائی، راشٹریہ سواستھ بیمہ یوجنا (آرایس بی وائی) جیسی حکومت کی حمایت یافتہ بیمہ اسکیمیں اور ریاستی مخصوص پروگرام صحت کی دیکھ بھال کی مالی اعانت میں 2.63 فیصد کا حصہ ڈالتے ہیں اور سرکاری صحت کے اخراجات میں اضافہ نے خاندانوں کے لیے مالی مشکلات کو نمایاں طور پر کم کیا ہے ۔ مالی سال 15 اور مالی سال 2022 کے درمیان، سرکاری صحت کے اخراجات (جی ایچ ای) 29.0 فیصد سے بڑھ کر 48.0 فیصد ہو گئے ، جب کہ نجی اخراجات آؤٹ آف پاکٹ اخراجات (اواوپی ای) – 62.6 فیصد سے کم ہو کر 39.4 فیصد ہو گئے ۔ اسکیم کے تحت 24 مارچ 2025 تک 36.9 کروڑ سے زیادہ آیوشمان کارڈ بنائے جا چکے ہیں۔اقتصادی سروے 2024-25 میں کہا گیا ہے کہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے نتیجے میں عام لوگوں کو 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوئی ہے ۔