ائمہ و موذنین پانچ ماہ کے اعزازیوں سے محروم۔پجاریوں کو پابندی سے تنخواہ جاریکیا چیف منسٹر کا یہی ہے سیکولر چہرہ؟

   

23 مئی کو وقف بورڈ پر دھرنا صدر مسلم یونائٹیڈ فیدریشن کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی : ( راست ) : چیف منسٹر تلنگانہ اور بی آر ایس پارٹی کے مسلم قائدین جو حکومت تلنگانہ کو پورے ملک میںواحد سیکولر حکومت قراردیتے ہوئے نہیں تھکتے اور نام نہاد مسلمان جو عہدوں پر فائز ہے وہ اپنی ذات کیلئے چیف منسٹر کے قدموں پر گر جاتے ہیں۔لیکن مسلمانوں کے حق کیلئے اور بالخصوص ریاست کے ائمہ موذنین کیلئے کبھی آواز نہیں اٹھاتے اور نہ مسلمانوں کی حق تلفی کو اپنے سیاسی آقا کے سامنے بیان نہیں کرتے ریاستی سرکار چند عارضی اسکیمات دیہاتوں میں اور دلتوں کو خوش کرنے کیلئے اعلانات کرتے ہوئے یہ سمجھ رہی ہے کہ تلنگانہ کی عوام حکومت کی مٹھی میں اور بالخصوص مسلمانوں کے تعلق سے حکومت کا رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے یعنی چیف منسٹر یہ سمجھ رہے ہیں کہ چند مفاد پرستوں کو خوش کرنے کی بنا ریاست کے 14%مسلمان انکے بے دام غلام ہو گئے ہیں چیف منسٹر کی یہ خوش فہمی انکو اپنے فارم ہائوس میں پہنچا دیگی۔ چیف منسٹر دہلی کا خواب دیکھنا تو درکنار خود ریاست کی حکمرانی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے کیونکہ ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کی بد دعائیں ہیں جو مسلمانوں سے وعدہ کرکے دھوکہ دیتے آرہے ہیں برائے نام بجٹ جاری کر کے وہ بھی خرچ نہیں کیا جاتا فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کو بیوہ بنا دیا گیا ہے یہ شعبے صرف برائے نام کے رہ گئے ہیں اور وقف بورڈ میں لوٹ کا بازار گرم ہے مسلمان متحد ہو کر بی آر ایس کے خلاف صف آرا ہو سکتے ہیں صدر مسلم یونائٹیڈ فیدریشن مولانا حکیم صوفی سید شاہ محمد خیر الدین قادری نے حکومت تلنگانہ کو یہ انتباہ دیا ہے کہ اگر 23؍ مئی تک ائمہ موذنین کے اعزازیے جاری نہیں کئے گئے تو مسلم یونائٹیڈ فیڈریشن کے زیر اہتمام ریاست کے ائمہ موذنین حج ہائوس پر دھرنا دینگے تاکہ اپنے ملک بھارت اور دنیا کو یہ معلوم ہو جائے کہ بی آر ایس سر کار اور چیف منسٹر کتنے سیکولر ہیں۔