ائیرپورٹس ، ریستوراں اور ہوٹلوں میں سگریٹ نوشی کی خصوصی جگہ برخاست کرنے کی خواہش

   

سگریٹ نوش کرنے والوں کو کورونا کا خطرہ ، کینسر کے ماہرین ڈاکٹر پنکج ترویدی
حیدرآباد۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سگریٹ پینے کے سلسلہ میں مرتب کردہ قوانین COTPA میں ترمیم کے دوران ائیر پورٹس‘ ریستوراں اور ہوٹلوں میں جہاں سیگریٹ نوشی کیلئے خصوصی جگہ بنائی گئی ہے اسے برخواست کرتے ہوئے ہندوستان کو سگریٹ سے مکمل طور پر پا ک کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ ڈاکٹرس اور ماہر اطباء کے علاوہ کینسر کے ماہرین کی جانب سے حکومت ہند سے خواہش کی گئی ہے کہ اسموکنگ روم جو بنائے گئے ہیں انہیں مکمل طور پر برخواست کرتے ہوئے عوامی صحت کو مستحکم بنانے کے علاوہ سگریٹ کے دھوئیں سے شہریوں کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ ڈاکٹر پنکج چترویدی نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے COTPA2003 میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن حکومت ان ترامیم کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کو مکمل طور پر بند کرنے کے اقدامات کے لئے خصوصی سیگریٹ نوشی کے کمرے جو ائیر پورٹس کے علاوہ ہوٹلوں اور ریستوراں میں تعمیرکئے گئے ہیں ان کو برخواست کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ ڈاکٹرس کاکہناہے کہ سیگریٹ نوشی کرنے والوں کو کورونا وائرس کا خطرہ زیادہ ہے کیونکہ ان کے پھیپڑوں میں کمزوری پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے علاوہ سیگریٹ نوشی کرنے والوں کو اگر کورونا وائرس ہوتا ہے تو وہ مہلک ثابت ہونے لگا ہے اسی لئے مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک بھر میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے بھی سگریٹ نوشی پر مکمل امتناع عائد کرنے کے اقدامات کرے اور سگریٹ کی تشہیر کے علاوہ دیگر تمباکو سے بنی اشیاء کی تشہیر پر عائد کی گئی پابندی پر سختی سے عمل کیا جائے ۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے COTPA 2003 میں ترمیم کے دوران سگریٹ کے علاوہ تمباکو سے بنی اشیاء کی تشہیر یا سگریٹ اور تمباکو کے پراڈکٹس کے ناموں سے مشہور برانڈس کے نام پر تیار کی جانے والی اشیاء کی تشہیر پر بھی پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہاہے اور ا س سلسلہ میں مرکزی حکومت کو ماہرین کی جانب سے سفارشات موصول ہوچکی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ہندوستان میں سگریٹ نوشی سے پاک ماحول کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور اس صورتحال میں ریاستی حکومتوں سے تجاویز طلب کرنے کے علاوہ ماہرین کینسر اور ڈاکٹرس کی تنظیموں سے بھی رائے حاصل کی جانے لگی ہے۔