اب 500 فیصد شرحوں کی دھمکی

   

Ferty9 Clinic

تجلی سے کہہ دو ذرا ہاتھ روکے
بہت عام اب دل کی بیماریاں ہیں
ڈونالڈ ٹرمپ کی بحیثیت صدر امریکہ دوسری معیاد میں ہندوستان کے تعلق سے امریکہ کا رویہ بالکل بھی مناسب نہیں رہا ہے ۔ اس طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیںجن کو مخالف ہند کہا جاسکتا ہے ۔ صدر ٹرمپ کی بیان بازیاں بھی ہندوستان مخالف ہی کہی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے ہند ۰ پاک کشیدگی کے دوران مداخلت کرکے جنگ رکوانے کا بارہا دعوی کیا ہے جبکہ ہر بارہندوستان نے اس کی تردید کی ہے ۔ اسی طرح ٹرمپ نے ہندوستان پر زور دیا تھا کہ وہ روس سے تیل کی حریداری نہ کرے ۔ ہندوستان کو دیگر ممالک کی بہ نسبت روس سے تیل کی خریدی سستی پڑتی ہے اسی لئے روس سے خاطر خواہ مقدار میں تیل خریدا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ روس تیل کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے یوکرین میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ دنیا کے ہر معملے میں صرف اپنی ہی منطق استعمال کرنے کے قائل ہیں اور وہ کسی اور کی کوئی بات سننے کو تیار نظر نہیں آتے ۔ وہ صرف اپنے طور پر فیصلے کرلیتے ہیں اور پھر دنیا بھر پر اسے مسلط کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ ٹرمپ کی یہ روش دنیا بھر میں بے چینی کی فضاء پیدا کرنے کی موجب بن رہی ہے ۔ اب ٹرمپ نے ایک بل کو منظوری دیدی ہے اور اگر یہ بل امریکی ایوان نمائندگان اور کانگریس میں پاس ہوجاتا ہے تو ہندوستان پر جملہ 500 فیصد شرحیں عائد ہونگی ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف ہندوستان پر نشانہ لگایا جا رہا ہے بلکہ چین اور برازیل پر بھی امریکی صدر اسی حد تک تحدادات عائد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ روس سے تیل کی خریداری کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ اسی آمدنی سے ولادیمیر پوٹن یوکرین پر جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ اگر تیل کی آمدنی بند ہوجائے تو پھر روس کے پاس یوکرین جنگ روکنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ جائے گا ۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا ان کے خحیال سے اتفاق کرے اور ان کے جاری کردہ احکام پر بلا چوں و چرا عمل بھی کرے ۔ ہندوستان اور اس کے ہمنواء ممالک ٹرمپ کے احکام قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ٹرمپ اسی لئے شرحوں کی دھمکی دے رہے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ ساری دنیا پر اجارہ داری چاہتے ہیں۔ انہوں نے محض تیل کی دولت پر قبضہ کرنے کیلئے ونیزویلا پر حملہ کیا ۔ وہاں کے صدر کو یرغمال بنالیا ۔ انہیں امریکہ منتقل کرکے قید خانہ بھیج دیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ۔ امریکہ نے یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ ونیزویلا کے تیل کے تمام امورا مریکہ کی نگرانی میںرہیں گے ۔ امریکہ کے مفادات کی تکمیل کے بغیر ونیزویلا کسی بھی ملک کو تیل فروخت نہیں کرے گا ۔ اسی طرح اب ٹرمپ گرین لینڈز پر بھی قبضہ کرنے کے منصوبہ پر عمل کر رہے ہیں۔ ایران کو بھی دھمکانے اور وہاں عوامی اشتعال کو ہوا دینے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے امریکہ کٹے ساتھ دیرینہ شراکت رکھنے والے اور حکمت عملی شراکت دار ہندوستان کو بھی نشانہ بنانے سے ٹرمپ سے گریز نہیں کر رہے ہیں اور اب انہوں نے ایسے بل کو منظوری دیدی ہے جو اگر امریکی ایوان نمائندگان اور کانگریس میں منظور ہوجاتا ہے تو ہندوستان کے بشمول کئی اور ممالک پر 500 فیصد تک شرحیں عائد ہوجائیں گی ۔اس طرح ہندوستان کی تجارت متاثر ہوسکتی ہے ۔ ہندوستانی معیشت پرا س کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان میں مینوفیکچرنگ شعبہ کی کارکردگی کم ہوسکتی ہے اور روزگار کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ ٹرمپ کا اجارہ داری والا رویہ ہے جو وہ ساری دنیا پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم دنیا کے بیشتر ممالک کیلئے ان کا یہ رویہ قابل قبول نہیں ہوسکتا اور اس تعلق سے ٹرمپ کو اپنے موقف کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے ۔
ہندوستان کے تعلق سے خاص طور پر ٹرمپ کا رویہ لگاتار معاندانہ دکھائی دیتا ہے حالانکہ ہندوستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کافی اہمیت دیتا ہے اور دونوںملکوں کے مابین حکمت عملی شراکت داری بھی پائی جاتی ہے ۔ ہندوستان نے کئی عالمی امور میں امریکہ کی تائید بھی کی ہے اس کے باوجود ٹرمپ کا مخالفانہ طرز عمل ناقابل فہم کہا جاسکتا ہے ۔ حکومت ہند کو اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے اپنے تعلقات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے اور ملک کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے کسی کے دباؤ کا شکار ہوئے بغیر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ امریکہ کا ہر حکم ہمارے لئے قابل قبول ہرگز بھی نہیں ہوسکتا ۔