اب حجرۂ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی دکن کی خانقاہی خدمات پر تحقیقی دستاویز

   

نوجوان محقق ڈاکٹر محمد عبدالعلیم نظامی کی نمایاں خدمات و کامیاب مساعی

یقیں پیدا کر اے ناداں! یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی، کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری
’’خانقاہ‘‘ کی وجہ تسمیہ میں مختلف توجیہات نقل کی جاتی ہیں، منجملہ اس کہ ’’خان‘‘ ، ’’بزرگ‘‘ کو کہا جاتا ہے، اس لحاظ سے بزرگ کے مقام کو خانقاہ کہتے ہیں یعنی کسی بزرگ شیخ مقتدا کی سرپرستی و نگرانی میں دنیوی و سماجی تمام تر تعلقات سے کنارہ کش ہو کر کامل یکسوئی اور توجہ سے اللہ تعالیٰ کی طلب و ارادت میں گوشہ نشین ہونے والے فرد یا جماعت کے تربیتی مقام کو ’’خانقاہ‘‘ کہتے ہیں۔ ’’خانقاہ‘‘ محض عمارت کا نام نہیں بلکہ نفس کی تربیت، باطن کی اصلاح اور روحانی مدارج کو طے کرنے کی عملی تربیت کے مراکز کو کہتے ہیں جہاں مرشد کامل ، طالبانِ حق ، سالکانِ راہِ طریقت کی خواہشات نفسانی کو قابو پانے ۔ بشری آلودگیوں سے پاک وصاف ہونے ، دل کی بیماریوں سے چھٹکارہ پانے اور اخلاق ذمیمہ سے نجات پانے کی مشق کرواتا ہے اور اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہونے ، تقویٰ و پرہیزگاری کی زندگی گزارنے اور عبادات و طاعات پر مشقت و مجاہدہ کی تربیت کرواتا ہے تاکہ خصائل حمیدہ و طاعت بے ریا اسکی طبیعت ثانیہ بن جائیں اور وہ کامل یکسوئی سے بلا تکلف اس کو سر انجام دے سکے۔ یہی وہ پاکیزہ مقامات ہیں جہاں تکبر، بغض ،عناد ،دشمنی ، نفرت و کراہیت ، بڑائی، شہرت پسندی ، حرص ، طمع ، ہوس ، بخل ، بزدلی اور کاہلی جیسی بیماریوں بطور خاص ’’غفلت ‘‘ جیسی اُم الامراض کا پائیدار علاج کیا جاتا ہے۔ یہی وہ تربیت گاہیں ہیں جہاں عشق و محبت کا رنگ چڑھتا ہے۔ شوق وولولہ کو گرمایا جاتا ہے ، فکر و نظر کی گرہیں کھلتی ہیں، حجابات اُٹھتے ہیں، اسرار ورموز منکشف ہوتے ہیں اور کیف و مستی کے جام پلائے جاتے ہیں ۔ ذکر وفکر کی ایسی تلقین کی جاتی ہے کہ اس کے اثرات نہ صرف قلب و دماغ بلکہ نس نس ، ریشہ ریشہ پر ظا ہر ہونے لگتے ہیں اور وہ ہر گھڑی ہر لخطہ مراقبہ ومشاہدہ سے دوام حضور و آگاہی سے سرفراز  ہوجاتا ہے۔خانقاہ کے دو بنیادی پہلو ہیں جن کے بغیر خانقاہ کا تصور نہیں (۱) شیخ کامل کی صحبت و تربیت (۲) مرید صادق کا جذبہ قربانی اور شوق مجاہدہ ۔ اور ان دونوں پہلووں میں محبت شیخ ایک جامع عنصر ہے۔ جس سے یہ کٹھن سفر نہایت آسان ہو جاتا ہے اور مرید توجہہ شیخ کی قوت تاثیر سے بہرور ہو جاتا ہے۔
جمالِ ہمنشیں در من اثَر کرد
وگرنہ من ھماں خاکم کہ ہستم
اسی پس منظر میں شیوخ واساتذہ کے دو واقعات مفید مدعا معلوم ہوتے ہیں کہ محبت شیخ اور شوق مجاہدہ کس طرح مرید و طالب کی زندگی میں انقلاب بپا کردیتا ہے ۔ چنانچہ فقیہ الاسلام حضرت مفتی ابراہیم خلیل الہاشمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ بچپن سے وہ حضرت مولانا ابوالوفا الافغانی رحمتہ اللہ علیہ کے تہجد کو اُٹھنے سے پہلے بیدار ہو جاتے اور وضو کیلئے پانی گرم کیا کرتے ، آپؒ نے مزید فرمایا حضرت بابا علیہ الرحمہ کے وصال تک اس خدمت میں ایک دن ناغہ نہیں ہوا ۔ در حقیقت شیخ کی بے پناہ محبت نے اس کٹھن خدمت کو آسان کر دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ زندگی بھر سفر میں ہو یا حضر میں رات میں بیدار ہو جاتے اور فجر کی نماز سے قبل دوبارہ تلاوت فرماتے اور اس معمول میں تادم زیست کوئی فرق نہیں آیا۔ اس عملی تربیت کو خانقاہی فیضان کہتے ہیں ۔
شوق مجاہدہ کی بہترین مثال حضرت عمدۃ المحدثین حضرت مولانا محمد خواجہ شریف رحمۃ اللہ علیہ کی ہے کہ وفات سے ایک عرصہ قبل آپ کو پیٹ میں کینسر ہوگیا تھا۔ ایک پاؤں اور ایک ہاتھ پر فالج ہو گیا تھا۔ اعضاء رئیسہ ایک عرصہ قبل متاثر ہوگئے تھے۔ آپ حددرجہ تکلیف میں تھے۔ ایسے وقت میں آپ کا قلب جاری رہا اور ہاتھ میں تسبیح کے دانے پلٹتے رہے ۔ موت کے آغوش میں دائمی ذکر کا جو نمونہ آپ نے پیش کیا وہ در حقیقت صحت کی حالت میں حد درجہ ذکر الٰہی کی تربیت و مشق کا نتیجہ تھا۔
پس خانقاہ کا تصور سالک یا سالکین کی جماعت کا مرشد کامل کی نگرانی میں تربیت و اصلاح پانے سے جڑا ہوا ہے۔ مراسم عرس ، ماہانہ محافل ، درگاہ کے انتظامات ، قبرستان و اوقاف کی نگرانی ، روحانی علاج و معالجہ ، سب در گاہی نظم ونسق میں آتا ہے ، اس کا خانقاہی نظام تربیت سے کوئی تعلق نہیں۔ شیخ کامل کی ذمہ داریاں مختلف ہیں ، متولی، مجاور اور عامل کے کاروبار مختلف ہیں۔
دکن کی خانقا ہیں اور ان کی علمی و سماجی خدمات پر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی،حیدرآباد کے زیر انتظام دو روزہ قومی سمینار مورخہ ۸۔۹ ڈسمبر ۲۰۲۵؁ ء کو دی قرآن فاؤنڈیشن، حیدر آباد کے حسن تعاون سے منعقد ہوا جسکے روح رواں و کلیدی محرک پروفیسر ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی صدر شعبہ عربی رہے جو حسن اتفاق سے اس عظیم الشان سمینار کے انعقاد اور اس میں پیش کئے گئے مقالات کی ایک تحقیقی دستاویز کی شکل میں اشاعت کے ساتھ اپنے حسن خدمات سے سبکدوش ہو گئے۔ گویا یہ علمی تحقیقی کارنامہ آپ کے حسن ختام کی علامت بن گیا۔ نیز جس اخلاص و للہیت ، شبانہ روز محنت اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے دکن کے بزرگوں کی خدمات کو روایتی طریقے سے ہٹ کر تحقیقی تنقیدی اور فکری پیمانہ پر روشناس کرانے کا بیڑا اُٹھایا اور اس کو کتابی شکل میں پیش کیا وہ قابل صد مبارکباد ہے ۔ بلاشبہ قومی سمینار کا انعقاد اور مجموعہ مقالات کی اشاعت ایک ٹیم ورک ہے اور اس ٹیم سے جڑے ہر فرد کے لئے تحسین و آفرین ہے بطور خاص نوجوان محقق ڈاکٹر محمد عبدالعلیم نظامی مقالہ جات کی ترتیب و تدوین میں گرانمایہ خدمات پر خراج تحسین کا حق رکھتے ہیں اور مستقبل میں بھی مزید تحقیقی کاوشوں کی اُمید ہے جوجامعہ نظامیہ کے قابل فخر سپوت ہیں۔ اجلہ شیوخ کی صحبت وتربیت میں علمی سفر کو طے کیا۔ اردو عربی میں تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں، معیاری اخبارات و رسائل میں اُن کے علمی افکار و تحقیقات شائع ہوتی رہتی ہیں۔ درجنوں بین الاقوامی و قومی سمینارس کا حصہ رہے ہیں ۔ ایک عرصہ سے مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں مرکز برائے فاصلاتی اور آن لائن تعلیم میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ؎
مئے یقیں سے ضمیرِ حیات ہے پُرسوز
نصیبِ مدرسہ یا رب یہ آبِ آتشناک
اس تحقیقی دستاویز میں جملہ (۱۰۳) مقالات ہیں جن میں اُردو کے (۸۹) ، انگریزی کے (۱۳) اور ہندی کا ایک مقالہ شامل ہے۔ ممکن ہے مزید مقالہ جات کا اضافہ ہوا ہو ۔
اردو مقالات کو موضوعات کے تنوع کے لحاظ سے چھ زمروں میں تقسیم کیا کیا ہے (۱) تصوف ۔ کلیدی خطبہ ۔ مصادر (۲) دکن کی خانقاہیں (۳) دکن کے مشائخ سلاسل (۴) دکن کے صوفی خانوادے ( ۵) دکن کے صوفیائے کرام(۶) صوفی شخصیات، تصانیف ، مطالعات ۔
ہر مقالہ اپنی افادیت اور معنویت کے اعتبار سے اہم ہے ۔ تاہم پروفیسر سید بدیع الدین صابری (سابق صدر شعبہ عربی عثمانیہ یونیورسٹی) کا کلیدی خطبہ تمام دستاویز کا سرتاج ہے نیز تذکرۂ صوفیائے دکن کے ماخذ و مصادر پر شاہ محمد فصیح الدین نظامی کا وقیع مقالہ معلومات کا خزانہ اور ذوق تحقیق کا غماز ہے ۔ نیز دکن کی خانقاہوں اور خانوادوں کے نوجواں مقالہ نگاروں نے اپنے بزرگوں اور خانقاہوں کی خدمات کو جامعیت اور حسن پیرایہ میں پیش کیا ہے ۔ اُمید ہے کہ یہ تسلسل جاری رہیگا اور بزرگوں اور اسلاف کے خدمات ، معمولات و تعلیمات پر تحقیقی کام ہوتا رہیگا۔
ہر لحظہ نیا طُور، نئی برقِ تجلّی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے!