اب سونیا گاندھی نشانہ پر

   

Ferty9 Clinic

کھٹک رہا ہوں مسلسل کسی کی آنکھوں میں
اسی لئے تو نشانے پہ بار بار ہوں میں
مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی جانب سے ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن اور اس کے قائدین کو بالکل ہی حاشیہ پر کردینے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ اپوزیشن کو نشانہ بنانے کیلئے ہر ہتھکنڈہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ یہ الزامات بھی عام ہوگئے ہیں کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کی آواز کو دبانے کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے ۔ کئی علاقائی جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی طاقت کو کم سے کم کرنے کی حکمت عملی پر عمل کیا گیا تھا ۔ کانگریس تو ابتداء ہی سے بی جے پی کے نشانہ پر ہے ۔ تاہم کانگریس کی مرکزی قیادت کے خلاف جس طرح کی حکمت عملی اب اختیار کی جا رہی ہے اس سے حکومت کی ہٹ دھرمی اور اقتدار کے زعم کا پتہ چلتا ہے ۔ حکومت کسی کو بھی خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ ہر طرح کی مخالفت یا اپوزیشن کو ختم کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کو ای ڈی میں مسلسل طلب کرتے ہوئے یومیہ کئی کئی گھنٹے پوچھ تاچھ کی گئی ۔ اس کے بعد کانگریس کی موجودہ صدر سونیا گاندھی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ان کی عمر اور ان کی علالت کا خیال کئے بغیر انہیں بھی ای ڈی میں طلب کیا گیا ۔ کئی گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی گئی ۔قانونی طور پر مزید کیا کارروائی کی جانی ہے یہ تو حکومت یا مرکزی تحقیقاتی ایجنسیاں ہی بتا سکتی ہیں لیکن اب انہیں شخصی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ پارلیمنٹ میں آج جس طرح سے ان کو گھیرنے کی کوشش کی گئی اور ان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کانگریس کی قیادت کو بھی نشانہ بنانے پر اتر آئی ہے ۔ حالانکہ جس ریمارک پر ہنگامہ ہوا ہے وہ ریمارک سونیا گاندھی نے نہیں کیا تھا ۔ یہ ریمارک آدھیر رنجن چودھری کا تھا ۔ ان کے خلاف احتجاج کیا جاسکتا تھا ۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن جس طرح سے سونیا گاندھی کو نشانہ بنایا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت قیادت کو نشانہ بنانے پر اتر آئی ہے ۔ بی جے پی کی خاتون ارکان نے سونیا گاندھی کو گھیرنے کی کوشش کی اور ان میں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی بھی شامل رہیں۔ دوسرے ارکان نے بھی اس ساری زبانی رسہ کشی میں حصہ لیا
اسمرتی ایرانی نے سونیا گاندھی سے مخاطبت کی کوشش کی لیکن سونیا گاندھی نے انہیں نظر انداز کردیا اور انہیں بات نہ کرنے کی تاکید کی ۔ سونیا گاندھی نے جو ریمارک نہیں کیا اس کی وجہ سے ان کے خلاف نعرے لگائے جانے کا کوئی جواز نہیںہوسکتا ۔ جہاں تک قانونی کارروائی کی بات ہے تو یہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے اور راہول گاندھی نے بھی اس میں تعاون کیا اور خود سونیا گاندھی بھی پوچھ تاچھ کیلئے دستیاب رہیں۔ ایسے میں اگر انہیں شخصی طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی اگر سیاست کی جاتی ہے تو یہ ایک افسوسناک پہلو ہے ۔ حکومت کو اپوزیشن کا احترام کرنا چاہئے ۔ حکومت یقینی طور پر ایوان کا کام کاج چلانے کی ذمہ دار ہے ۔ اس کام کاج کو یقینی بنانے سبھی کا تعاون حاصل کیا جانا چاہئے ۔ یہی ہماری پارلیمنٹ کی روایت بھی رہی ہے ۔ تاہم موجودہ حکومت کسی سے تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی کسی کا تعاون حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ ایوان کی کارروائی کو من مانی انداز میں چلایا جا رہا ہے ۔ قوانین کسی مباحث یا کسی تبادلہ خیال کے بغیر بنائے جا رہے ہیں اور اس پر کچھ ججس کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کے رویہ میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں آ رہی ہے ۔ حکومت من مانی چلانے پر اٹل ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کی روایات کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا جا رہا ہے اور محض اکثریت اور اقتدار کے نشہ میں فیصلے اور اقدامات کرتے ہوئے ان پر عمل آوری کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔
جہاں تک سونیا گاندھی کو نشانہ بنائے جانے کی بات تو یہ ساری اپوزیشن جماعتیں جانتی ہیں اور خود بی جے پی کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ سونیا گاندھی کا جو سیاسی سفر رہا ہے وہ تنازعات سے پاک رہا ہے ۔ وہ کسی کے خلاف شخصی تنقیدوں اور ریمارکس سے ممکنہ حد تک گریز کرتی ہیں۔ ان کے خلاف سخت ریمارکس کرنے والوں کے تعلق سے بھی وہ نازیبا الفاظ کا استعمال نہیںکرتیں۔ سیاسی مخالفت کرنا سبھی کا حق ہے تاہم کسی کو سیاسی مخالفت کی بناء پر رسواء کرنا یا شخصی طور پر نشانہ بنانا یہ ہندوستان کی روایات کے مغائر ہے ۔ خواتین کے احترام کے مغائر ہے اور اس کا حکومت کو جلد احساس کرنا چاہئے ۔