ابھیشک موہنتی بالآخر تلنگانہ کیڈر میں شامل

   

جی او جاری، ہائی کورٹ میں حکومت کا حلفنامہ پیش

حیدرآباد : /15 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے بالآخر نوجوان آئی پی ایس آفیسر ابھیشیک موہنتی کو تلنگانہ کیڈر میں شامل کرتے ہوئے ایک جی او جاری کیا ۔ ریاستی حکومت نے آج تلنگانہ ہائیکورٹ کو اس سلسلہ میں واقف کرواتے ہوئے جوابی حلف نامہ داخل کیا ۔ 2011 ء آئی پی ایس بیاچ سے تعلق رکھنے والے ابھیشیک موہنتی جو متحدہ آندھراپردیش کے سابقہ ڈی جی پی مسٹر اے کے موہنتی کے چھوٹے بیٹے ہیں کو ریاست کی تقسیم کے دوران آل انڈیا سرویسیس افسران کی تقسیم کے دو ران انہیں آندھراپردیش کیڈر کو الاٹ کیا گیا تھا ۔ مرکزی وزارت داخلہ کے احکام کے خلاف ابھیشیک موہنتی سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل (کیاٹ) سے رجوع ہوکر انہیں تلنگانہ کیڈر الاٹ کرنے کی درخواست کی تھی ۔ جس پر ٹریبونل نے حکومت کو یہ حکم دیا تھا کہ مقامی زمرے کے تحت ابھیشیک موہنتی کو تلنگانہ کیڈر الاٹ کیا جائے لیکن کیاٹ کے احکامات کے خلاف حکومت مسلسل ٹال مٹول رویہ اختیار کئے ہوئے تھی جس پر کیاٹ نے ریاستی چیف سکریٹری سومیش کمار کی کئی مرتبہ سرزنش کی تھی اور ابھیشیک موہنتی کو تلنگانہ کیڈر میں شامل نہ کرنے پر تحقیر عدالت کے تحت جیل بھی بھیجنے کی دھمکی دی تھی ۔ آج ریاستی حکومت نے عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے یہ بتایا کہ ابھیشیک موہنتی کو تلنگانہ کیڈر میں شامل کرلیا گیا ہے اور سلسلہ میں جی او نمبر 583 بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ اسی دوران سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل نے ریاستی حکومت کو اندرون 3 ہفتے ابھیشیک موہنتی کو تعینات کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلہ میں رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ واضح رہے کہ ابھیشیک موہنتی کے بڑے بھائی اویناش موہنتی بھی تلنگانہ کیڈر کے آئی پی ایس عہدیدار ہیں جو سائبر آباد میں جوائنٹ کمشنر ایڈمنسٹریشن میں برسرخدمت ہے ۔