مسلمانوں کے احتجاج پر حالات کشیدہ ، کرفیو نافذ ، دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم،سنگباری میں 60 سے زیادہ افراد زخمی
دہرہ دون : اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں مسجد اور مدرسہ پر انتظامیہ کی جانب سے بلڈوزر چلایا گیا جس کے خلاف مسلمانوں نے جم کر احتجاج کیا ۔ اس دوران پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان پتھراؤ بھی ہوا ۔ پولیس نے احتجاج کررہی خواتین پر بھی لاٹھی چارج کردیا ۔ پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان پتھراؤ میں 60 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے ۔ حکومت نے علاقہ میں کرفیو نافذ کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق انتظامیہ نے ہلدوانی کی ایک مسجد اور مدرسہ کو بلڈوزر کے ذریعہ مسمار کردیا ۔ انتظامیہ کے مطابق مسجد اور مدرسہ سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا ۔ انتظامیہ کی کارروائی کے خلاف سینکڑوں مسلمانوں نے احتجاج کیا جس کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی ۔ حکومت نے علاقہ میں مزید پولیس فورس کو روانہ کردیا جبکہ اطلاعات کے مطابق علاقہ میں تناؤ ہے اور متعدد مقامات پر آتشزنی کے واقعات پیش آئے ہیں ۔ چیف منسٹر نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور انہوں نے فساد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ۔ تشدد کے دوران پولیس کی گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی ۔ سنگباری میں کئی پولیس ملازمین اور صحافی زخمی ہوگئے ۔ چیف منسٹر دھامی نے دہرہ دون میں اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس طلب کیا ۔ واضح رہے کہ بلڈور کارروائی سے قبل ہائیکورٹ نے انتظامیہ کی کارروائی پر اسٹے آرڈر دینے سے انکار کردیا تھا ۔ ایجوکیشن آفیسر نے ہلدوانی ترقیاتی بلاک میں بارہویں تک تمام اسکولوں کو /9 فبروری کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے ۔