ملک کی کسی بھی ریاست یا قومی سطح کے انتخابات میں دوسری جماعتوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اپنی صفوں کو مضبوط کرنے میں مہارت رکھنے والی بی جے پی کیلئے حالات اب ایسا لگتا ہے کہ پورا چکر لگاچکے ہیں اور خود بی جے پی کو اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔مسلسل دوسرے دن دوسرے وزیر نے بھی اترپردیش کابینہ سے اور بی جے پی سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ اب تک چار ارکان اسمبلی بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔ مزید ایک درجن ارکان اسمبلی کے استعفوں کی بھی قیاس آرائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کیلئے صورتحال بھونچال والی ہوگئی ہے ۔ عوام کے گھروں میںتک نظر رکھنے والی بی جے پی کیلئے اپنے ہی وزراء اور ارکان اسمبلی کے استعفے توقعات کے بالکل برعکس ہیں اور وہ صورتحال کو پوری طرح سے سمجھ نہیںپا رہی ہے کہ مزید قائدین بھی استعفے پیش کرنے لگے ہیں۔ یہ ساری صورتحال در اصل چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے تکبر اوران کی ضدی و ہٹ دھرمی والی طبیعت کا نتیجہ ہے ۔ کل ہی ایک طاقتور اور بااثر او بی سی لیڈر سوامی پرساد موریہ اور چار ارکان اسمبلی نے بی جے پی سے استعفی پیش کرتے ہوئے پارٹی کو حیرت کاشکار کردیا تھا ۔ آج ایک اوروزیر دارا سنگھ چوہان نے بھی وزارت اور بی جے پی سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ دارا سنگھ چوہان بھی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی جے پی کو اپنے اقتدار کو بچانے کی جدوجہد میںپسماندہ طبقات کے ووٹوں سے بہت زیادہ امید تھی ۔ سابقہ انتخابات میں بھی بی جے پی کو اقتدار دلانے میں پسماندہ طبقات کے اورغیر یادو او بی سی طبقات کے ووٹوں نے اہم رول ادا کیا تھا ۔ یہ ووٹ بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی سے دور ہو کر بی جے پی کے ساتھ آگئے تھے ۔ تاہم اس بار بی جے پی کی امیدیں ابھی سے ٹوٹتی نظر آر ہی ہیں۔ دو طاقتور وزراء اور چار ارکان اسمبلی اب تک آدتیہ ناتھ کابینہ سے علیحدگی اختیار کرچکے ہے۔ کچھ نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور مزید کچھ کے جلد ہی اکھیلیش یادو کا ہاتھ تھام لینے کی امیدیں ہیں۔ یہ ساری صورتحال بی جے پی کیلئے انتہائی غیر متوقع ہوگی ہے ۔
یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ تقریبا ایک سال قبل خود بی جے پی کے درجنوں ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے خلاف بغاوت کردی تھی ۔ ہائی کمان سے بھی شکایت کی گئی تھی ۔ ہائی کمان نے مرکز سے ایک ٹیم بھی ریاست کو روانہ کی تھی اور وزیر اعظم و وزیر داخلہ کی نگرانی میںصورتحال کی یکسوئی کی کوشش کی گئی ۔ لیکن تعجب اس بات کا رہا کہ ؎نریندر مودی اور امیت شاہ بھی اترپردیش میںارکان اسمبلی کی خواہشات کے مطابق کوئی تبدیلی لانے میںناکام رہے تھے ۔ ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر کے ضدی اور ہٹ دھرمی والے رویہ اور کسی کو خاطر میںنہ لانے کی روش کی شکایت کی تھی ۔ کچھ تبدیلیوں کیلئے اصرار کیا تھا ۔ مرکزی قیادت کی مداخلت کے باوجود صورتحال میںکوئی تبدیلی نہیںآئی تھی ۔ اس موقع پر تو ارکان اسمبلی کوسمجھا منا کر خاموش کرلیا گیا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ ارکان اسمبلی بھی موقع کے منتظر تھے اور اب جبکہ ریاست میںانتخابی بگل بج چکا ہے اور شیڈول جاری ہوچکا ہے یہ ارکان اسمبلی اس کو مناسب وقت سمجھتے ہوئے بی جے پی ‘ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ اور پارٹی کی مرکزی قیادت سبھی کو جھٹکے دینے لگے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ نے کل کی طرح آج بھی ٹوئیٹ کرتے ہوئے استعفی دینے والوںسے واپس آجانے کی اپیل کی ہے لیکن ان کی واپسی تو کیا ہوگی مزید ارکان اسمبلی کے استعفوں کو بھی خارج از امکان قرار نہیںدیا جاسکتا ۔ اس صورتحال نے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے طرز عمل پر سوال پیدا کردئے ہیں۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پارٹی کی مرکزی قیادت چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کرے اور کچھ فیصلے دہلی سے کئے جائیں لیکن یہ کب ہوگا اور کس طرح سے کیا جائیگا یہ ایک بڑا سوال ہے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ آیا آدتیہ ناتھ خاموشی سے اپنی غلطیوں کو مانتے ہوئے مرکزی قیادت کے فیصلے قبول کریں گے یا پھر وہ بھی آنجہانی کلیان سنگھ کی طرح کوئی الگ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے ؟ ۔ یہ ساری صورتحال یقینی طور پر اترپردیش کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے والی ہے اور حالات کا رخ ریاست میں تیزی سے بی جے پی کے خلاف بدلنے لگا ہے ۔
